مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 559
مصالح العرب۔جلد دوم 531 حاکم و محکوم کی مخلصانہ راہنمائی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی عربی کتاب حَمَامَةُ البُشْری میں خدا تعالیٰ کی ایک عظیم بشارت کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ: وَإِنَّ رَبِّي قَد بَشَّرَنِي فِي الْعَرَبِ وَالْهَمَنِي أَنْ أُمَوِّنَهُمْ وَارِيَهُمْ طَرِيْقَهُمْ وَأَصْلِحَ لَهُمْ شُيُوْنَهُم - حمامة البشری روحانی خزائن جلد 7 صفحه (182) ترجمہ: اور میرے رب نے اہلِ عرب کی نسبت مجھے بشارت دی اور الہام کیا ہے کہ میں ان کی خبر گیری کروں اور ٹھیک راہ بتاؤں اور ان کے معاملات کو درست کروں۔اس الہی ارشاد کے تحت جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عربوں کے لئے کتب تالیف فرما کر ان کی راہنمائی فرمائی وہاں آپ کے بعد آپ کے خلفائے عظام نے بھی آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہر موقع پر نہ صرف فرض نصیحت ادا فرمایا بلکہ عربوں کی خبر گیری اور ان کے معاملات کی درستگی کے لئے ہر ممکن عملی قدم بھی اٹھایا۔دینی ، دنیاوی اور سیاسی بلکہ ہر سطح پر خلفائے احمدیت نے خدا داد بصیرت سے ہمیشہ عربوں کو اپنے معاملات درست کرنے کی ہمیشہ ٹھیک راہ بتائی۔چاہے یہ امور عرب ممالک کی آزادی سے تعلق رکھتے ہوں یا ان ممالک میں موجود مقدس مقامات کی حفاظت سے ، خواہ ان کا تعلق عرب ممالک کے مغربی ممالک کے ساتھ بڑے بڑے تجارتی معاہدوں سے ہو یا سیاسی مقاصد سے، عربوں کے مفادات کے تحفظ کا معاملہ ہو یا انکے ملکی اور علاقائی استحکام اور امن و امان کا ، الغرض ہر معاملہ میں خلفائے احمدیت نے اپنے قیمتی اور مخلصانہ مشوروں اور کوششوں اور دعاؤں سے ہمیشہ عرب ممالک کی مدد کی۔اور