مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 535
507 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم مسلمانوں کو ایک کرنے کے لئے ، انصاف قائم کرنے کے لئے، دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے یقیناً نظام خلافت ہی ہے جو صحیح رہنمائی کر سکتا ہے۔حکمرانوں اور عوام کے حقوق کی نشاندہی اور اس پر عمل کروانے کی توجہ یقیناً خلافت کے ذریعے ہی مؤثر طور پر دلوائی جاسکتی ہے۔یہ لکھنے والے نے بالکل صحیح لکھا ہے، لیکن جو سوچ اس کے پیچھے ہے وہ غلط ہے۔جو طریق انہوں نے بتایا ہے کہ عوام اٹھ کھڑے ہوں اور نظام خلافت کا قیام کر دیں، یہ بالکل غلط ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ نظام خلافت سے وابستگی سے ہی اب مسلم امہ کی بقاء ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا اس تنظیم نے بہت صحیح حل مسلمانوں کی حیثیت منوانے اور اُن کو صحیح راستے پر چلانے کے لئے بتایا ہے، لیکن اس کا حصول عوام اور انسانوں کی کوششوں سے نہیں ہوسکتا۔کیا خلافت راشدہ انسانی کوششوں سے قائم ہوئی تھی؟ باوجود انتہائی خوف اور بے بسی کے حالات کے، اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کے دل پر تصرف کر کے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لئے کھڑا کر دیا تھا۔پس خلافت خدا تعالیٰ کی عنایت ہے۔مومنین کے لئے ایک انعام ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کچھ عرصہ تک خلافتِ راشدہ کے قائم ہونے کی پیشگوئی فرمائی تھی۔اور اس کے بعد ہر آنے والا اگلا دور ظلم کا دور ہی بیان فرمایا تھا۔پھر ایک امید کی کرن دکھائی جو قرآنی پیشگوئی وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة:4) میں نظر آتی ہے، اور اس کی وضاحت آنحضرت نے مسیح و مہدی کے ظہور سے فرمائی، جو غیر عرب اور فارسی الاصل ہو گا۔جس کا مقام آنحضرت کی غلامی اور مہر کے تحت غیر تشریعی نبوت کا مقام ہو گا۔پس اگر مسلمانوں نے خلافت کے قیام کی کوشش کرنی ہے تو اس رہنما اصول کو سامنے رکھتے ہوئے کریں۔“ تاریخ سے سبق سیکھیں (خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 2011ء) بنا نچہ مسیح محمدی اور امام مہدی کی آمد کے ذریعہ جس خلافت علی منہاج النبوۃ کے قیام کی پیشگوئی تھی اس کا پورا ہونا کسی انسانی ہاتھ کا مرہون منت نہ تھا بلکہ یہ کام صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا ہے کہ کسے یہ تاج پہناتا ہے اور کس کو اس عظیم کام کے لئے چلتا ہے۔پھر جو کام خدا کا ہے اور اس نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے اس کو دنیا والے کس طرح اپنی کمزور تدبیروں سے سر