مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 534 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 534

506 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم قرار دیں گے تو دیگر مسلمان اس بات پر بھی آپ کے دشمن ہو جائیں گے کیوں کہ وہ ان کی نظر می میں اس منصب کا اہل نہیں ہوگا۔بلکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کسی بات پر اتفاق نہیں کر سکتے۔ہم صرف ایک ہی بات پر متفق ہیں اور وہ یہ کہ ہم کبھی کسی بات پر اتفاق نہیں کریں گے۔ایک اور ممبر نے لکھا کہ مجھے افسوس ہے کہ آج کے زمانے میں کوئی شخص بھی اس لقب کا اہل نہیں ہے۔ایک شخص نے لکھا کہ سابقہ خلفاء میں سے ہر ایک خلیفہ مختلف صفات کی بنا پر معروف و مشہور ہوالیکن افسوس کہ آج ان کی صفات کا حامل کوئی بھی نہیں ہے۔(http://www۔ibnsina4s۔com/vb/showthread۔php?4070) 2۔جب خود خلیفہ المسلمین بنانے کے نظریے پیش کئے جانے لگے تو اس کا اگلا منطقی قدم یہ تھا کہ خلیفہ کی اہلیت کے قوانین وضع کئے جائیں جس کے لئے ہر فرقہ نے اپنے عقائد کے مطابق خلیفہ کے اوصاف وقواعد کا ذکر کیا۔ان قوانین کے مطابق کوئی شخص اس معین فرقہ کا خلیفہ تو ہو سکتا ہے باقی فرقوں کے نزدیک قابل قبول نہ ہوگا۔3۔جب خلیفہ کی اہلیت کے قانون بنانے تک نوبت پہنچ گئی تو یہ خیال بھی گزرا کہ اگر خلیفہ کبھی ان قوانین اہلیت کی پاسداری سے عاری ہو جائے تو کیا کرنا چاہئے؟ چنانچہ خود خلیفہ بنانے والوں کو اس سوچ کے آتے ہی یہ بھی قانون بنانا پڑا کہ مذکورہ حالت میں خلیفہ کو معزول بھی کیا جاسکتا ہے۔اور پھر اس کے بھی قواعد وضع کئے گئے اور معزول کرنے کے طریق پر بحث کی گئی۔ان کی سوچ کا سقم اس سارے مضمون پر یکجائی نظر سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ان کی یہ بات تو درست ہے کہ خلافت کے بغیر مسلمان اپنی موجودہ مشکلات سے نہیں نکل سکتے اور خلافت ہی سارے مسائل کا حل ہے۔لیکن انسانی کوششوں سے یا تحریکوں سے اس کے قیام کا نظریہ درست نہیں ہے۔ایک تنظیم کی ویب سائٹ پر نشر ہونے والی اسی طرح کی ایک رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے 25 فروری 2011ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا: