مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 501 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 501

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 473 عیسی علیہ السلام انیس سو برس سے دوسرے آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں اور باوجود یکہ فوت شدہ کی روحوں کو جاملے اور حضرت یحیی کے زانو بزانو ہم نشین ہو گئے پھر بھی اسی جہان میں ہیں اور کسی آخری زمانہ میں جو گویا اس امت کی ہلاکت کے بعد آئے گا آسمان پر سے اتریں گے تو شرک سے بچنے کے لئے ایسی فوقت العادت صفت کی کوئی نظیر تو پیش کر د یعنے کسی ایسے انسان کا نام لوجو قریباً دو ہزار برس سے آسمان پر چڑھا بیٹھا ہے اور نہ کھاتا نہ پیتا نہ سوتا اور نہ کوئی اور جسمانی خاصہ ظاہر کرتا اور پھر مجسم ہے اور روحوں کے ساتھ بھی ایسا ملا ہوا ہے کہ گویا اُن روحوں میں ایک رُوح ہے۔۔۔پھر آخری زمانہ میں بڑے کروفر اور جلالی فرشتوں کے ساتھ آسمان پر سے اُترے گا۔اور گو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج کی رات میں نہ چڑھنا دیکھا گیا اور نہ اتر نا مگر حضرت مسیح کا اُترنا دیکھا جائے گا۔تمام مولویوں کے روبرو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُترے گا۔پھر اسی پر بس نہیں بلکہ مسیح نے وہ کام دکھلائے جو ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم با وجود اصرار مخالفوں کے دکھلا نہ سکے۔بار بار قرآنی اعجاز کا ہی حوالہ دیا۔بقول تمہارے مسیح سچ سچ مُردوں کو زندہ کرتا رہا۔شہر کے لاکھوں انسان ہزاروں برسوں کے مرے ہوئے زندہ کر ڈالے۔ایک دفعہ شہر کا شہر زندہ کر دیا۔مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک مکھی بھی زندہ نہ کی۔اور پھر مسیح نے بقول تمہارے ہزار ہا پرندے بھی پیدا کئے اور اب تک کچھ خدا کی مخلوقات اور کچھ اس کی مخلوقات دنیا میں موجود ہے اور ان تمام فوق العادت کاموں میں وہ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ ہے۔۔۔اب بتلاؤ کہ اس قدر خصوصیتیں حضرت عیسی علیہ السلام میں جمع کر کے کیا اِن مولویوں نے حضرت عیسی کو خدائی کے مرتبہ تک نہیں پہنچایا۔اور کیا کسی حد تک پادریوں کے دوش بدوش نہیں چلے؟ اور کیا اِن لوگوں نے حضرت عیسی کو وَحْدَهُ لَا شَرِيْك كا مرتبہ دینے میں کچھ فرق کیا ہے؟ مگر مجھے خدا نے اس تجدید کے لئے بھیجا ہے کہ میں لوگوں پر ظاہر کروں کہ ایسا خیال کرنا کفر اور صریح کفر اور سخت کفر ہے۔بلکہ اگر واقعی طور پر حضرت مسیح نے کوئی معجزہ دکھلایا ہے یا کوئی اعجازی صفت حضرت موصوف کے کسی قول یا فعل یا دُعا یا تو توجہ میں پائی جاتی ہے تو بلا شبہ وہ صفت کروڑ ہا اور انسانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔66 (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 203 تا 7 20 حاشیہ) اس تحریر میں حضور علیہ السلام نے ایک عظیم قاعدہ پیش فرمایا ہے جس سے کسی کو انکار نہیں