مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 490
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 462 عیسائیوں کی طرف سے مقدمہ جہاں مسلمانوں کی نیابت میں مصری نوجوان نے یہ قدم اٹھایا وہاں عیسائیوں کی طرف سے بھی ایک شخص نے بطور خاص اس مہم کی قیادت کی۔یہ شخص مصر کے آرتھوڈکس چرچ کا مشیر قانونی اور مصر کی انسانی حقوق کی تنظیم کا چیئر مین نجیب جبرائیل ہے جو پہلے بھی بات بات پر کبھی مسلمانوں کے خلاف کبھی ٹی وی چینل کے پروگراموں کے خلاف اور کبھی مسلمان علماء کے مختلف بیانات پر مذکورہ بالا قانون کا حوالہ دے کر مقدمہ دائر کرنے میں مشہور و معروف شخصیت ہے۔اس شخص نے پہلے تو ایم ٹی اے 3 العربیہ کے خلاف متعدد بیانات دیئے اور مقدمہ کرنے کی دھمکی دی، ازاں بعد اس شخص نے مقدمہ دائر کر دیا جس کی خبر مصری جریدہ ”الدستور نے اپنے یکم مئی 2007 ء کے شمارہ میں شائع کی ، ذیل میں اس کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے: مصر کی انسانی حقوق کی تنظیم کے چیئرمین نجیب جبرائیل نے مصر کے وزیر اطلاعات ونشریات کے خلاف عابدین نامی Court for urgent matters میں قضائی دعوی دائر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مصری حکومت نائل ساٹ کی مالک ہے اور وزیر اطلاعات و نشریات اس کے نگران اور انچارج سمجھے جاتے ہیں لیکن اسی سیٹیلائٹ پر ان کی اجازت سے MTA نامی ایک چینل پر ایک پروگرام میں عیسائی عقیدہ کے بارہ میں شکوک پھیلانے کا کام ہو رہا ہے، اس میں بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ انجیل میں تحریف ہوئی ہے اور یہ بات نجیب جبرائیل کے مطابق تو ہین ادیان کے زمرے میں آتی ہے۔لہذا اس کیس میں حکومت اور وزیر اطلاعات سے اس چینل کی نشریات نائل ساٹ سے بند کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔نجیب جبرائیل کے بقول اس چینل کی مالک جماعت احمدیہ ہے جو تثلیث اور توحید اور کفارہ کے عیسائی عقائد کے بارہ میں شکوک پھیلا رہی ہے، اور یہ بات مصر میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے مابین اتحاد اور معاشرتی امن وسلامتی کے لئے خطرہ ہے۔نجیب جبرائیل کی طرف سے اس کیس میں بڑی بڑی عیسائی شخصیات بھی شامل ہیں جن میں پادری مرقص عزیز، پادری عبد امسیح بسیط بھی شامل ہیں۔