مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 476
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 450 بڑھاؤں گا۔حضور نے فرمایا کہ ہر روز ہم دیکھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ میں شامل ہونے والا ہر شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت کرنے والے گروہ میں شامل ہو رہا ہے۔وہ شخص جو قادیان کی ایک چھوٹی سی بستی میں اکیلا اور یکا و تنہا تھا آج اس کے لاکھوں کروڑوں صحت پیدا ہو چکے ہیں۔یہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی تکمیل کی ایک کڑی ہے ورنہ لوگوں کے دلوں کو بدلنا کسی انسان کا کام نہیں ہے۔انہی دلی محبوں کے گروہ میں ہمیں عرب دنیا میں بھی وہ محب نظر آتے ہیں جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بے انتہا عشق و محبت ہے اور اس کی جھلک آپ ہمارا جو عربی کا پروگرام چل رہا ہے اس میں دیکھ چکے ہیں۔مکرم مصطفیٰ ثابت صاحب نے اپنے جذبات کا اظہار کیا، شریف عودہ صاحب نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا، یہ ہانی طاہر صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، تمیم ابو دقہ صاحب ہیں اور بہت سے عرب ہیں جن کی محبت ان کے چہروں سے ٹپکتی ہے۔حضور نے فرمایا کہ وہ کیا چیز تھی جس نے عرب ملکوں میں جا کر یہ انقلاب پیدا کیا۔وہ یقینا اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میں تیرے محبوں کا گروہ پیدا کروں گا جو محبت میں اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔حضور نے فرمایا کہ یہ محبوں کا گروہ ہمیں مردوں میں بھی نظر آتا ہے، عورتوں میں بھی نظر آتا ہے، بچوں میں بھی نظر آتا ہے۔جب عرب ملکوں کے لوگ مجھے خط لکھتے ہیں، اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں، یہاں آتے ہیں اور جب ملتے ہیں اور جس محبت کا اظہار کرتے ہیں وہ صاف بتا رہی ہوتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہے کہ میں تیرے محبوں کا گروہ پیدا کروں گا وہ انقلاب شروع ہو چکا ہے اور اب عرب دنیا میں بھی ان محبتوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے اور انشاء اللہ بڑھتی چلی جائے گی اور ایک وقت آئے گا جب تمام عرب امت واحدہ بن کر ایک ہاتھ پر اکٹھی ہو جائے گی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ یک زبان ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے والی ہوگی۔حضور انور نے فرمایا: پس یہ 3mta کا جو چینل ہے یہ بھی خدائی تائیدات کا ایک نشان ہے اور یہ چیزیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ وہ وقت دور نہیں جب اسلام اور احمدیت کا جھنڈا تمام دنیا پر لہرائے گا۔پس اس بات کو ہمیں اور زیادہ دعاؤں کی طرف توجہ دلانے والا بننا