مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 438 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 438

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 414 انہیں گھیرا ہوا ہے۔ان کا سارا اسلام فروعی مسائل داڑھی اور نقاب ، اور جن بھوت اور جادوٹو نے جیسے موضوعات میں رہ گیا ہے۔اس بارہ میں یہ لوگ ایک دوسرے کے موقف کے برعکس فتوے دیتے اور امت کو مزید بانٹتے ہیں۔کاش وہ بھی آپ کے نقش قدم پر چلتے“۔عبد الوہاب صاحب مصر سے ایک اور خط میں لکھتے ہیں:۔خدا کی قسم ، آپ لوگ خدا کے وہ مخلص سپاہی ہیں جو خدا کی خاطر کسی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ہمارے علماء جو آپ لوگوں کو دین کی حمایت میں پادری زکریا جیسے خطرناک اثر دہا اور مسیحی الدجال کا مقابلہ کرتے دیکھ رہے ہیں، مگر خود وہ اس فاجر کو جواب دینے سے قاصر ہیں اور بے جا بہانے بناتے ہیں۔ان پر افسوس ہے۔کاش کہ وہ لوگ اسلام کی حمایت میں آپ کے نقش قدم پر چلتے اور آپ کی تکفیر میں وقت ضائع کرنے کی بجائے دشمن کا مقابلہ کرتے۔خاص طور پر جبکہ آپ لوگ لا إِلهَ إِلَّا الله کے قائل ہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کو مانتے ہیں۔“ آپ نے وہ کام کر دکھا یا جو کوئی نہ کر سکا صابر الفتوری صاحب ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں۔جارج برناڈشا کہتا ہے :۔کتاب مقدس کو الماری میں رکھ کر اسے تالا لگادینا چاہئے۔کچھ عرصہ قبل ایک عیسائی عربی چینل "الحياة" پر پادری زکریا بطرس نے ایک پروگرام أَسْئِلَهُ عَنِ الْإِيْمَان کے نام سے شروع کیا جس میں اس نے بعض پرانی تفاسیر کو ( جنہیں بعض جاہل مولوی پکڑے بیٹھے ہیں) بنیاد بنا کر اسلام پر مختلف قسم کے اعتراضات کا سلسلہ شروع کیا اور کہا کہ اس میں بہت سی بعید از عقل باتیں ہیں اور باہمی تضادات بھی ہیں۔اس پر عرب دنیا میں بہت شور اٹھا خاص طور پر اس وقت جبکہ جامعہ ازہر نے یہ اعلان کیا کہ ان کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں دیا جائے گا۔اسی طرح بعض دیگر مذہبی تنظیموں نے بھی حیلے بہانے بنا کر جواب دینے سے گریز کیا۔دوسری طرف اسلام پر حملے اپنی شدت کی انتہا کو پہنچ گئے۔تب ایک اور چینل رونما ہوا جو جماعت احمدیہ کی ملکیت ہے۔اس چینل نے اسلام پر کئے جانے والے تمام اعتراضات اور تمسخر کا جواب اپنے ایک پروگرام اَجْوِبَهُ عَنِ الإِيْمَان میں دینا شروع کیا۔پھر الْحِوَارُ الْمُبَاشِر میں