مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 434 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 434

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 410 میں آپ کو بین المذاہب بات چیت پر مبنی غیر جانبدارانہ پروگرام پیش کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔کاش کہ بین المذاہب بحث و مباحثہ پر مبنی دیگر چینلز بھی آپ کے اس پروگرام کے اسلوب کو اپنا لیں“۔ایک لبنانی پادری میخائیل نے 6 دسمبر 2007ء کے پروگرام میں کہا کہ : و مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ مجھے وہ چیز مل گئی جس کی مجھے تلاش تھی۔آپ قرآن پر اعتراض سننے کے لئے بھی تیار ہیں اور زکریا بطرس کی بات کا بھی جواب دیتے ہیں۔میں اس پروگرام کے شروع کرنے پر آپ کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔کاش مسلمانوں کے شیعہ وسنی فرقے بھی اگر آپ کے نقش پر چلیں اور آپ کے اسلوب کو اپنا لیں تو ساری دنیا امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے۔کاش کہ سارے مسلمان احمدی بن جائیں“۔بیت المقدس کے پادری حنار شماوی صاحب نے 8 ستمبر 2007ء میں کہا کہ : آپ کے پروگرام میں ایک طرح کی ڈیموکریسی اور رواداری ہے کیونکہ آپ عیسائیوں کے تمام فرقوں کو باوجود انکے آپس کے چھوٹے بڑے اختلافات کے اپنے پروگرام میں بات کرنے کا موقعہ دیتے ہیں“۔مصر کے مسلمان منصفین کی آراء ذکر یا بطرس کا تعلق مصر کے آرتھوڈ کس چرچ سے ہے اور عرب ملکوں میں سے مصر ہی وہ واحد ملک ہے جس میں عیسائیوں کا اس طرح کا مرکز موجود ہے۔اس لئے اس مصری پادری کے حملہ کا سب سے زیادہ اثر مصر کے مسلمانوں پر تھا اور جب اس کا جواب MTA نے دیا تو اس قدم کی پسندیدگی پر مشتمل سب سے زیادہ فون کالز اور ای میل بھی مصر سے ہی موصول ہوئے۔ان میں سے بعض کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔عمومی پسندیدگی پر مبنی تبصرے الحاج ابراہیم صاحب نے مصر سے 5 مئی 2007ء کے پروگرام میں کہا: ”آپ نے اس خوبصورت پروگرام کے ذریعہ مسلمانوں کا جھنڈا کل عالم میں بلند کرد