مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 405
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 381 میزبان : لیکن شیخ صاحب! اس کی وجہ سے ہمارے بچے مرتد ہورہے ہیں۔شیخ جمال: جو اس پادری کو سنے گا خود ہی سمجھ جائے گا کہ اس کو جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔میزبان : لیکن میں امر واقعہ کے بارہ میں بات کر رہی ہوں۔( یعنی مسلمان بچے اس کی باتیں سن کر مرتد ہورہے ہیں)۔شیخ جمال: میں اس کو سن سکتا ہوں لیکن ایسے لوگوں اور ان کے چینل اور ان کے ساتھ کام کرنے والوں سے تجاہل اختیار کرنا چاہئے۔کیا میں زکریا بطرس جیسے کو جواب دوں؟ ہر گز نہیں۔میزبان : لیکن میں ایک مسلمان کی حیثیت سے اس کا جواب جاننا چاہتی ہوں۔شیخ جمال: ضروری نہیں کہ تمہیں ہر چیز کا علم ہو۔بہر حال ایک گھنٹے کا یہ پروگرام ”مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ“ کی وضاحت کے بارہ میں تھا جس میں شیخ جمال اور شیخ مبروک عطیہ نے کوئی مطمئن کرنے والا جواب نہ دیا بلکہ شیخ جمال غصے میں آکر پروگرام سے نکل گئے۔اس دوران میزبان بار بار خالی کرسی دکھا کر شیخ جمال کی غیر موجودگی کے بارہ میں ناظرین کو بتاتی رہی۔بہر حال آدھے گھنٹے کے بعد شیخ صاحب دوبارہ تشریف لے آئے۔یہ پروگرام یو ٹیوب پر کئی کلپس کی شکل میں موجود ہے لیکن مذکورہ بالا بات چیت اس لنک پر دیکھی اور سنی جاسکتی ہے۔http://www۔youtube۔com/watch?v=K3xGjwfLB4&feature=related اس پروگرام کو عیسائیوں نے خوب اچھالا اور لکھا کہ الا زہرایسے مشائخ کہاں سے لائے جو ان سوالوں کے جواب دے سکیں۔نیز کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ اسلام صرف ایک سوال کی مار ہے۔اور اے مسلمان! کیا اتنا سارا کچھ ہو جانے کے بعد بھی تو یہ کہتا رہے گا کہ یہ دین خدا کی طرف سے ہے۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو یہ ویب سائٹ :۔http://truth-way۔net/vb/showthread۔php?t=303&page=2 خود زکریا بطرس نے بھی ان باتوں پر اپنے تبصرے کے ساتھ ویڈیو بنا کر یو ٹیوب پر ڈال دی جو آج تک موجود ہے۔