مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 404 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 404

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 380 2۔کچھ لوگوں نے انفرادی طور پر پادری کے پیش کردہ مسلمانوں کی کتب کے حوالوں کا مختلف تاویلوں کے ذریعہ سے جواب دینا شروع کر دیا جس نے موقف کو مزید کمزور کر دیا۔3۔بعض ہمت ہار کر اس بے بسی پر خدا کے حضور مدد کے لئے گریہ وزاری کرنے لگے کہ اے خدایا تو خود ہی کسی کو کھڑا کر جوان کا منہ بند کرے۔4۔اور بعض نے یہ فتویٰ جاری کیا کہ اس چینل کو نہ دیکھا جائے اور اس کو کوئی جواب نہ دیا جائے ، بلکہ اس موضوع کو نہ کسی خطبہ اور نہ درس میں ذکر کیا جائے۔اور یہ رائے ازہر کے بعض شیوخ کی تھی۔بہر صورت کسی طرف سے کوئی ایسا مد مقابل نہ آیا کہ اس دشمن اسلام کے دانت کھٹے کرے اور اس کی تدبیروں کو خود اس پر ہی الٹا دے۔مشائخ از ہر کے موقف کی ایک مثال ابھی تک عیسائی پادری مسلسل مسلمانوں کو للکارے جارہا تھا اور علی الاعلان کہہ رہا تھا کہ کوئی ہے تو میرے مد مقابل آئے اور ان اعتراضات کا جواب دے۔ایسی صورتحال میں بعض عرب چینلز پر بھی پادری کے اٹھائے ہوئے اعتراضات کا جواب دینے کے لئے علماء کو بلایا جانے لگا۔یہاں پر بطور مثال ایک چینل پر ہونے والی گفتگو کا خلاصہ درج کرنا خالی از دلچسپی نہ ہو گا۔اس عربی چینل پر الا زہر کی فتوی کمیٹی کے سابق صدر شیخ جمال قطب اور ایک اور شیخ مبروک عطیہ کو بلایا گیا اور میز بان بسمہ وہبہ نے لونڈیوں کے بارہ میں اعتراض کا جواب چاہا۔لیکن لمبی بحث کے بعد جب کوئی معقول جواب نہ ملا تو میزبان نے کہا : شاید آپ کو پتہ نہیں کہ ایک عیسائی پادری بیسیوں دفعہ الا زہر کے بڑے بڑے مشائخ کو للکار چکا ہے لیکن کوئی اس کو جواب نہیں دیتا۔شیخ جمال: اس پادری کو کوئی جواب نہیں دیا جائے گا۔میزبان : کیا مطلب کہ کوئی جواب نہیں دیا جائے گا؟ اگر آپ میں سے کوئی جواب نہیں دے گا تو کیا میں جواب دوں گی؟ شیخ جمال: اس موضوع پر نہ خطبہ میں بات ہوگی ، نہ کسی ٹی وی کے پروگرام میں ، نہ ہی اس کا کوئی جواب دیا جائے گا۔