مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 401 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 401

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 377 ایک ہولناک چیلنج اور عیسائی خواہش کی تکمیل کی راہ میں ایک خطرناک رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔پھر اس چیلنج کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چیلنج دراصل یہ ہے کہ اسلام ایک دین، ایک ثقافت، ایک معاشرہ اور اسلوب حیات و طرز فکر وعمل ہے۔گویا ان کے نزدیک اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے انہیں نہ صرف اسلام کی دینی ، ثقافتی اور معاشرتی اقدار کا خاتمہ کرنا ہوگا بلکہ اس کے اسلوب حیات و طرز فکر و عمل کو بھی بدلنا ہو گا۔اسی طرح ”ازمیر ترکی کے آرچ بشپ Giuseppe G۔Bernardini نے کہا کہ اسلام نے یورپ کو فتح کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔اسلام پٹرول سے حاصل شدہ ڈالرز کی بدولت پہلے ہی اپنا نفوذ بڑھا رہا ہے۔اور اب یہ ڈالرز شمالی افریقہ کے غریب ملکوں یا مشرق وسطی میں کام کے مواقع پیدا کرنے پر نیز عیسائی ملکوں میں ہجرت کر کے آنے والے مسلمانوں کے لئے مساجد و مراکز کی تعمیر پر خرچ ہورہے ہیں اور ان میں اٹلی کا دارالحکومت روم بھی شامل ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اس واضح توسیعی منصو بہ اور اس نئی طرز کی فتح کے پروگرام سے بے خبر رہیں۔اسی طرح کی بعض اور آراء پر مشتمل ایک مضمون لندن سے شائع ہونے والے ایک عربی اخبار القدس العربی“ نے اپنی یکم نومبر 1999ء کی اشاعت میں شائع کیا، جن سے اور بے شمار امور کے علاوہ عرب ملکوں کو عیسائیت کی یلغار کا ہدف بنانے کا واضح عندیہ ملتا ہے۔حوالہ کے لئے ملاحظہ ہو: (AL-QUDS AI - Arabi Volume 11 - Issue 3261 Monday 1 November 1999 p 18) اسلام دشمن مہم اور عیسائی پادری زکریا بطرس اسی پس منظر میں مختلف عیسائی چینلز پر اسلام کے خلاف مہم کا آغاز ہوا جن میں سب سے زیادہ سخت حملہ 2003ء میں قبرص سے شروع ہونے والے ایک عیسائی چینل ”الحیاۃ کے ذریعہ کیا گیا جس پر ایک پادری نے اسلام اور نبی ء اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر حملہ شروع کیا۔اس حملہ کی تفاصیل بتانے سے قبل اس پادری کے بارہ میں کچھ عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔اس پادری کا نام زکریا بطرس ہے اور اس کا تعلق مصر کے قبطی آرتھوڈ کس چرچ سے ہے۔یہ قاہرہ کے چرچ مار مرقس میں بطور کا بہن کام کرتا رہا پھر آسٹریلیا میں اور بعد ازاں