مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 400 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 400

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 376 خیمہ ہے اس آنے والے انقلاب کا جب قاہرہ، دمشق اور طہران کے شہر خداوند یسوع مسیح کے خدام سے آباد نظر آئیں گے۔حتی کہ صلیب کی چمکار صحرائے عرب کے سکوت کو چیرتی ہوئی وہاں (یعنی حجاز میں۔ناقل ) بھی پہنچے گی۔اس وقت خداوند یسوع اپنے شاگردوں کے ذریعہ مکہ کے شہر اور خاص کعبہ کے حرم میں داخل ہوگا اور بالآخر وہاں اس حق و صداقت کی منادی کی جائے گی که ابدی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھے خدائے واحد اور یسوع مسیح کو جانیں جسے تو نے بھیجا ہے۔“ (Barrows Lectures 1896-97 page 42 First Ed۔1897 in Madras by: The Christian Litrature Society for India) یہی عزم لے کر یہ لوگ جب ہندوستان میں آئے تو جس طرح انہیں کا سر صلیب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھوں منہ کی کھانی پڑی اور پسپائی کا سامنا کرنا پڑا وہ تاریخ اسلام کا ایک روشن باب ہے۔یوں تو کر سنائزیشن کے لئے بہت سی کا نفرنسز منعقد ہو چکی ہیں لیکن 1978ء میں امریکہ کی ایک ریاست کولوراڈو میں ہونے والی کانفرنس سب سے خطر ناک شمار کی جاتی ہے جس میں 150 بڑی بڑی متشد د عیسائی شخصیات نے شرکت کی اور 720 ملین مسلمانوں کو عیسائی بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔(یاد رہے کہ اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کی کل تعداد بھی تقریبا اتنی ہی تھی )۔دو ہفتے جاری رہنے والی اس کا نفرنس میں بہت بڑے بجٹ کی منظوری دی گئی اور جہاں عالم اسلامی کو عیسائیت کی طرف مائل کرنے کے لئے بیرونی طور پر مختلف طریقے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا وہاں مسلمان ملکوں میں موجود کلیساؤں اور پادریوں کو بھی فعال طور پر اس مہم میں اپنا کردار ادا کرنے کا کہا گیا۔عجیب بات ہے کہ اسی سال اور اس کا نفرنس کے انعقاد سے چند ماہ پہلے جماعت احمدیہ نے عیسائیت کے گڑھ برطانیہ میں کسر صلیب کا نفرنس منعقد کی جس میں امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے بھی شرکت فرمائی۔بہر حال عیسائی مذہبی تنظیموں اور شخصیات کی مسلمان ممالک کو عیسائی بنتا دیکھنے کی خواہشیں پنپتی اور بڑھتی رہیں اور بند کمروں کی خفیہ باتیں بھی زبان زد عام ہوتی رہیں حتی کہ پوپ کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں سے ایک Cardinal Paul Poupard نے 30 ستمبر 1999ء کو ایک فرانسیسی اخبار Le Figaro کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ اسلام مغرب کے لئے