مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 384 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 384

360 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم عرب میں رہائشی مکانات کے مالکانہ حقوق حاصل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔اس فیصلہ پر مشتمل تفاصیل SAGIA یعنی Saudi Arabian General Investment) (Authority کی آفیشل ویب سائٹ پر دی گئیں جبکہ مندرجہ ذیل لنک پر بھی اس کی تفاصیل آج تک انٹرنیٹ پر موجود ہیں: /information http://www۔saudi embassy۔net/about/country- Foreign Rules۔aspxlaws۔Investment_ Act_and_Executive_ اس کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے عہد مبارک کی ابتدا میں ہی سعودی عرب کے ایک روز نامہ "الوطن" کی 19 جولائی 2003ء کی اشاعت میں کنگ فیصل یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر امیمہ احمد الجلا ہمہ نے ایک آرٹیکل شائع کیا جس کا انگلش ترجمہ (MEMRI) یعنی The Middle East Media Research Institute کی طرف سے ایک رپورٹ کی شکل میں انٹرنیٹ پر آج بھی موجود ہے۔اس آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ بعض شدت پسند یہودی ربیوں نے فتوی دیا ہے کہ عراقی سرزمین بھی گریٹر اسرائیل کی حدود میں داخل ہے۔لہذا امریکی اور برطانوی فوجوں کی حفاظت میں یہودی کثرت سے عراق میں زمینیں خریدنے کے منصوبے بنارہے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔2004 ء کے شروع میں خبریں آنی شروع ہوئیں کہ سن 2000 ء میں بنائے ہوئے سعودی قانون میں یہودی خیبر ، تبوک اور دیگر ایسے علاقوں میں واپسی کا خواب پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں جہاں پرانے زمانے میں یہودی آباد تھے۔چونکہ فلسطین میں بھی یہی غلطی ہوئی اور عراق میں بھی اسی غلطی کو دہرایا جارہا تھا اس لئے حضور انور نے اس بارہ میں سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کو اس سنگین خطرے سے آگاہ کرنے کا ارشاد فرمایا۔اور خلافت کی راہنمائی میں جماعت نے اس بارہ میں اپنا کردار ادا کیا اور مختلف سطح پر اس مسئلہ کو اجاگر کیا گیا۔اس سلسلہ میں ایک دو عربی اخبارات نے ہمارے بعض احمدیوں کی طرف سے مرسلہ خطوط بھی شائع کئے ، اس سلسلہ میں یمن کا اخبار البلاغ ، خصوصی طور پر قابل ذکر ہے۔2004ء میں سعودی مجلس شوری کے وفد نے دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کیا جہاں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو اپنے نظام شوری کے بارہ میں آگاہ کیا اور اس کے