مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 380
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 356 مسجد بیت الفتوح اور حاسد ملاں حضور انور نے اپنے عہد خلافت کی ابتدا میں مورخہ 3 اکتوبر 2003 کو مسجد بیت الفتوح کا افتتاح فرمایا جو بفضلہ تعالیٰ مغربی یورپ کی سب سے بڑی مسجد ہے۔اس مسجد کے افتتاح کی خبریں عرب میڈیا میں بھی جلی عناوین سے شائع کی گئیں، لیکن اس اخبار نے جہاں مسجد کی تعریف و توصیف میں بعض جملے لکھے وہاں ہمیشہ کی طرح بعض مولویوں سے مسجد کے بارہ میں رائے لی ، اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی مولوی کو جماعت کے بارہ میں بولنے کا موقعہ ملے اور اس کے منہ سے کوئی اچھی بات نکل جائے، لہذا اس بار بھی انہوں نے اپنے حسد اور دشمنی کومکروہ ترین لفظوں میں ڈھال کر پیش کیا۔ان میں سے ایک اخبار الشرق الأوسط" نے اپنی 7 /1 اکتوبر 2003 میں یہ عنوان باندھا: یورپ کی سب سے بڑی مسجد میں مسلمانوں کا داخلہ منع ہے۔اس کے بعد لکھا کہ: بنیاد پرست مسلمان کہتے ہیں کہ یہ لندن میں مسجد ضرار ہے، جبکہ معتدل مزاج مسلمان اسے مسجد نہیں بلکہ محض عبادتگاہ کا نام دیتے ہیں۔احمدیت برطانیہ میں سب سے زیادہ پھیلنے والا فرقہ ہے جس کے تین ٹی وی چینل اور تین ریڈ یوٹیشن کام کر رہے ہیں۔باوجود اس کے کہ یورپ کی اس سب سے بڑی مسجد میں تقریباً دس ہزار نمازی بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن مسلمانوں کو نہ تو اس کے کسی ہال میں داخل ہونے کی اجازت ہے نہ ہی اس کے قریب جانے کی، کیونکہ یہ احمد یہ فرقہ کی مسجد -۔اس کے بعد مختلف مولویوں سے مسجد کے بارہ میں رائے لی گئی ہے جس کا خلاصہ شروع میں آچکا ہے۔علاوہ ازیں مسجد کی خوبصورتی اور اس کے اور جماعت کے بارہ میں غلط و صیح معلومات بھی اس آرٹیکل میں فراہم کی گئی ہیں۔