مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 362 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 362

340 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم اے دیکھنے کی سہولت بہم پہنچائی گئی۔اس تاریخی روز سے عرب احباب جماعت کو بھی براہِ راست خلیفہ امسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطابات سننے کا موقع میسر آ گیا جو بفضلہ تعالیٰ اب تک جاری ہے۔ورنہ اس سے پہلے حالت یہ تھی کہ اخبار الفضل ربوہ سے لندن آتا تھا اور وہاں سے کہا بیر بھجوایا جاتا ہے۔اُس میں جو خطبہ ہوتا اُسے مبلغ صاحب ترجمہ کر کے سناتے تھے۔یوں حضور انور کا خطبہ عرب احباب تک پہنچنے میں کم و بیش ڈیڑھ ماہ کا عرصہ لگ جاتا تھا۔لیکن MTA شروع ہونے سے احباب کا خلیفہ وقت کے ساتھ براہ راست تعلق قائم ہو گیا۔الحمد للہ علی ذلک۔کبابیر میں ایم ٹی اے کے اسٹوڈیو کا قیام 23 مارچ جماعت احمدیہ کا یوم تاسیس ہے۔اُسی روز 23 / مارچ 1993ء کو دارالتبلیغ کی اوپر والی منزل میں ایک ابتدائی نوعیت کا اسٹوڈیو قائم کیا گیا۔اس کے قیام کے لئے عزیزم محمد شریف صلاح الدین صاحب (حال امیر جماعت احمدیہ کبابیر ) رشاد فلاح صاحب، منیر عوده و صاحب، ایاد کمال صاحب نے بہت محنت کی۔فجزاهم الله احسن الجزاء۔اس اسٹوڈیو میں عربی پروگرام تیار کر کے ایم ٹی اے لندن کو بھجوانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اب بفضلہ تعالیٰ ہے سلسلہ اتنا ترقی کر گیا ہے کہ کہا بیر سے بھی لائیو پروگرام شروع ہو گئے ہیں۔بوسنین مسلمانوں کی کہا بیر میں آمد 1993 ء میں بوسنیا کے قریباً ایک سو افراد کو حکومت نے حیفا کے قریب ایک بستی میں رکھا۔جماعت احمد یہ کبابیر کا وفد ان سے ملنے گیا اور کہا بیر آنے کی دعوت دی۔چنانچہ عید الفطر کے موقعہ پر نماز ادا کرنے وہ مسجد احمد یہ کہا بیر آئے۔نماز عید ادا کرنے کے بعد کہا بیر کے ہر احمدی گھرانہ کے سپر د ایک ایک دو دو مہمان کر دیئے گئے۔شام تک یہ مسلمان بھائی کبابیر میں رہنے کے بعد واپس چلے گئے مگر جماعت نے اُن سے رابطہ رکھا۔ان کے لئے مرکز جماعت لندن سے بوسنین زبان میں کتب منگوائی گئیں جو ان میں تقسیم ہوئیں۔انہیں نماز پڑھنے کا طریق نیز دعا ئیں سکھائی گئیں۔جماعت نے حسب استطاعت ان کی ہر طرح سے مدد کی۔تقریباً چھ ماہ کی کے بعد آہستہ آہستہ یہ اپنے وطن کو لوٹ گئے۔جانے کے بعد بھی ان میں سے بعض نے بذریعہ کی