مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 360
مرحوم کے 338 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم جلسہ سالانہ عالمی جلسے کی شکل اختیار کر گیا، جماعت احمد یہ کہا بیر سے کچھ نہ کچھ لوگ اجتماعی و انفرادی طور پر اُس میں شریک ہوتے رہے۔لیکن 1990ء سے باقاعدہ وفد کی صورت میں جلسہ میں شرکت کا سلسلہ شروع ہوا اور پہلی پار 36 انصار،خدام،اطفال شریک ہوئے۔خاکسار ( حمید احمد کوثر صاحب) نے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی خدمت میں درخواست کی کہ اطفال الاحمد یہ کہا بیر کے ایک گروپ کو جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقعہ پر محترم منیر الحصنی صاحب کا قصیدہ خبّروا عنا العصور بعدنا۔۔۔۔۔) پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمائیں۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پہلے میں خود سنوں گا پھر پڑھنے یا نہ پڑھنے کا فیصلہ ہوگا۔چنانچہ مورخہ 28 جولائی 1990ء کو حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے اسلام آباد کی مسجد میں قصیدہ سماعت فرمایا اور اپنی رضامندی اور مسرت کا اظہار فرماتے ہوئے اختتامی اجلاس میں قصیدہ پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔اگلے روز حضور رحمہ اللہ کی موجودگی میں اختتامی خطاب سے قبل یہ قصیدہ پڑھا گیا جسے بہت پسند کیا گیا، یہ پہلا موقعہ تھا، لیکن اس کے بعد پھر ہر سال وفد کہا بیر کو جلسہ میں شرکت کرنے اور قصیدہ پڑھنے کا موقعہ ملتا رہا۔بعد ازاں یہ سلسلہ خواتین کے جلسہ میں بھی شروع ہو گیا۔وہاں بھی لجنہ اماء اللہ کہا بیر کا ایک گروپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قصائد میں سے کوئی قصیدہ پڑھتا رہا۔ڈروز میں تبلیغ کا اسلوب 1992ء میں جو وفد جلسہ میں شریک ہوا اس میں دروز فرقہ کے ایک دوست طویل اعظم ابو ادیب (از دالية الكرمل) بھی شامل تھے۔مورخہ 8 اگست 1992 ء کو کہا بیر کے وفد کی انفرادی ملاقات تھی۔جب یہ ملاقات والے کمرے میں آئے تو حضور رحمہ اللہ نے فرمایا دروز فرقہ کے لوگوں کو تبلیغ کرتے ہوئے یہ سمجھانا چاہئے کہ سیدنا حضرت مسیح موعود حضرت سلمان فارسی کی طرح فارسی النسل ہیں۔اور سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی سے یہ واضح ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور فارسی النسل میں سے ہی ہونا تھا۔ابوادیب صاحب کو جب یہ بتایا گیا تو وہ اس بات سے بہت خوش ہوئے اور اپنے فرقہ کے لوگوں میں تبلیغ کا وعدہ کیا۔