مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 356
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 6۔مجلہ البشری کا موقعہ کی مناسبت سے خاص شمارہ شائع کرنا۔334 الحمد للہ مدت مقررہ میں یہ تمام کام پایہ تکمیل کو پہنچ گئے جس کی کسی قدر تفصیل آگے آئے گی۔مسجد احمد یہ کہا بیر کی تعمیر نو مسجد احمد یہ کہا بیر جس کی بنیاد محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس نے 16 ذو القعدہ 1349 ھ مطابق 3 اپریل 1931 ء کو رکھی ، جس کی تکمیل مولا نا ابو العطاء صاحب کے زمانہ میں ہوئی۔کم و بیش نصف صدی گزرنے کی وجہ سے مسجد کی عمارت خستہ ہو گئی تھی جس کی بنا پر 1979 ء میں اس کی تعمیر نو کا منصوبہ صد سالہ جوبلی کے منصوبہ کے تحت عمل میں آیا۔مورخہ 22 / رجب 1399ھ بمطابق 18 جون 1979 ء کو مولانا فضل الہی بشیر صاحب نے مسجد کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا۔ابھی مسجد کی پہلی منزل کی چھت مکمل ہوئی تھی کہ مولانا موصوف کا تبادلہ عمل میں آیا ، اور وہ 16 دسمبر 1981ء کور بوہ تشریف لے گئے۔بعد ازاں مسجد مختلف مراحل میں تعمیر ہوتی رہی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسجد کا نقشہ ایک مسلمان انجینئر محمود طبعونی صاحب آف ناصرہ نے محترم مولانا فضل الہی بشیر صاحب کے مشورہ سے تیار کیا۔مسجد احمد یہ کہا پیر اور وقار عمل انجینئرز کے اندازے کے مطابق اس مسجد کی تعمیر کے اخراجات چھپیس لاکھ ڈالر کے برابر مقامی کرنسی میں تھے۔لیکن جو اصل اخراجات اس مسجد کی تعمیر پہ ہوئے وہ صرف نو سے دس لاکھ ڈالر کے درمیان ہیں۔اس کی بڑی وجہ احباب جماعت اور خدام کا مسجد کی تعمیر کیلئے دن رات وقار عمل کرنا تھا، حقیقت تو یہ ہے کہ سوائے بعض خاص امور کے معماری سے لے کر مزدوری تک جملہ اخراجات ( تقریباً دس لاکھ ڈالر ) کہا بیر کی جماعت نے جو بلی فنڈ اور مسجد کا چندہ جمع کر کے پورا کیا اور کسی قسم کی کوئی بیرونی امداد حاصل نہ کی گئی۔یہ مسجد حقیقت میں وقار عمل کی نیک تحریک کا ثمرہ ہے۔