مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 345 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 345

325 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم کارندوں اور سرکردہ لیڈز کو نیز ان ملکوں کے سفارتی نمائندوں کو خواہ جو کوئی بھی ہوں احتجاجی اور یاددہانیوں کے خطوط لکھیں۔اس کثرت کے ساتھ خطوط کی بوچھاڑ کی گئی کہ ان کی حکومت کو اس کی بازگشت سنائی دی۔۔۔اس کارروائی کا اتنا ز بر دست اثر ہوا کہ اس کے جواب میں ہمیں عرب ملکوں کی طرف سے تہنیت کے خطوط ملنے لگے۔انہوں نے کہنا شروع کیا کہ ہم ایک ملین اور دوملین ڈالرز کی امداد دے رہے ہیں اور عام لوگوں کو معلوم بھی نہیں کہ امداد کا یہ سلسلہ کن کی کوششوں اور تحریک سے شروع ہوا۔اور خدا کے فضل سے جب انہوں نے مدد دینی شروع کی تو پھر خدا نے بھی ان کے دل کھول دیئے۔( لقاء مع العرب بتاریخ 3 جنوری 1995 ء ) فَبَايِعُوهُ حاضرین مجلس میں سے کسی نے سوال کیا کہ عرب دنیا کے عام مسلمانوں میں سے بعض کہتے ہیں کہ ہم دیندار ہیں اور احکام دینیہ پر پورا پورا عمل کرنے والے ہیں، ہم قرآن کو سمجھتے ہیں اور سنت رسول پر عمل کرنے والے ہیں اس وجہ سے ہمیں احمدیت میں شامل ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔انہیں کیا جواب دیا جائے؟ حضور انور نے فرمایا: انہیں یہ بتانا چاہئے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے زیادہ جاننے والے تھے۔آپ کو جو بھی خدا تعالیٰ نے علم عطا فر مایا اس کے مطابق ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ اکثر مسلمان اور ان کے علماء اور لیڈر دین سے برگشتہ، غافل اور کنارہ کش ہو جائیں گے۔اپنی کوششوں میں غیر متحد ہوں گے اور ان میں انتشار پیدا ہو جائے گا۔اور حقیقت میں لوگ اصل قبلہ کو گم کر بیٹھیں گے۔اگر یہ لوگ جن کی آپ بات کر رہے ہیں اس بات کو نہیں مانتے تو پھر یہ بالکل بھی نیک لوگ نہیں ہیں۔کیونکہ کوئی بھی مومن ان باتوں سے انکار نہیں کر سکتا۔اس مسئلہ کا حل بڑی وضاحت کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں بیان ہوا ہے۔آپ نے اس کا حل یہ نہیں بیان فرمایا کہ جو تم پسند کرتے ہو یا جسے تم اچھا سمجھتے ہو اس مسلک کو اختیار کئے رکھو۔بلکہ اس مسئلہ کا حل یہ بیان فرمایا کہ خدا تعالیٰ اپنے برگزیدہ امام مہدی کو بھیجے گا اور جب تمہارے کانوں میں اسکی آمد کی خبر پہنچے اور تمہیں معلوم ہو کہ وہ آ گیا ہے تو