مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 344
مصالح العرب۔جلد دوم اہل بوسنیا کے لئے عرب امداد کے اصل محرک 324 جب بوسنیا کے مسلمانوں پر قیامت ٹوٹی تو ایک طرف مغربی طاقتوں کی پشت پناہی میں عیسائیوں نے ان کی امداد کے ساتھ چرچ کے دروازے بھی کھول دیئے اور اسلام سے کسی قدر پہلے ہی دُور یہ مسلمان مجبوری کے عالم میں عیسائیت کے اس جال میں پھنسنے لگے۔اس وقت بوسنین مسلمانوں کی مدد کے لئے ایک جماعت احمدیہ تھی جو مختلف طریقوں سے کوشش کر رہی تھی۔اس وقت اسلامی اور خصوصاً تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کی طرف سے امداد نہ ہونے کے برابر تھی۔اور ان دنوں میں پاکستان اقوام متحدہ میں سیکیورٹی کونسل کا چیئر مین تھا۔اس ساری صورتحال کے بیان کے بعد حضور رحمہ اللہ نے ایک پروگرام میں بتایا: ہم نے یہ سوچ کر کہ وہ پاکستانی ہے اس لئے ہماری اس معاملہ میں بات سنے گا اور بوسنینز کی مدد کے لئے کوئی کارروائی کرے گا۔جب میں نے ایک وفد اس کے پاس بھجوایا۔تو اس کا جواب تھا کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔تم کہتے ہو کہ باقی دنیا بوسنینز کی امداد کے لئے کافی کچھ نہیں کر رہی ، میں تمہیں مسلمان عرب ملکوں کی افسوسناک حالت بتاتا ہوں کہ ان عرب ملکوں نے بوسنینز کی مدد کے لئے جو بھی وعدے اقوام متحدہ سے کئے ہیں ان میں سے ابھی تک ایک بھی پورا نہیں کیا۔ان عرب ممالک کا عذر یہ تھا کہ بوسنیا کی اندرونی حالت خانہ جنگی کی ہے، حالات بہت خراب ہیں، بارڈر بند ہو چکے ہیں، ہم براہ راست ان کی مدد نہیں کر سکتے۔اقوام متحدہ نے کہا ٹھیک ہے پھر جو بھی امداد ہے ہمیں دو ہم ان بوسنیز تک پہنچانے کا انتظام کریں گے۔۔لیکن ان عرب ممالک کو اقوام متحدہ کی یہ تجویز بھی پسند نہ آئی، اور بوسنیز اب بھوک، پیاس ر اور بیماریوں اور نا کافی خوراک کے باعث ہزاروں کی تعداد میں مررہے ہیں۔اس کے با وجود ان مسلمان ملکوں پر کچھ اثر نہیں ہو رہا۔میں نے تمام دنیا کے احمدیوں کو ہدایت کی کہ اس سلسلہ میں کوششیں شروع کر دیں۔۔۔۔احمدیوں نے حیرت انگیز ردعمل دکھایا یہاں تک کہ احمدی عورتوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے اپنے زیورات، چوڑیاں، انگوٹھیاں اور جو بھی قیمتی گہنے تھے پیش کر دیئے۔۔۔میں نے احمدیوں کو ہدایت کی کہ وہ ان تمام مسلمان ممالک، ان کی حکومت کے