مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 339 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 339

319 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم کر کے فرماتا ہے کہ اس وقت جبکہ اس نے فرمانبرداری سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ میں تیرے بندوں کے راستہ میں مچان لگاؤں گا اور انہیں بہکاؤں گا کہ اے شیطان جو کچھ تیرے بس میں ہے اور جس قسم کی بھی طاقت تجھے میسر ہے استعمال کر کے دیکھ، جس قسم کی بھی فوجی طاقت تجھے حاصل ہے میدان میں اتار لے اور اپنی Infantries اور Mountain Divisions اور شاہی دستے جو کچھ تیری طاقت میں ہے آزما کے دیکھ لے لیکن: إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَان (الحجر: 43) میرے بندے، میرے بندے ہی رہیں گے اور تو کبھی بھی ان پر غلبه یا دسترس حاصل نہ کر سکے گا۔یہی میرا جواب ہے کہ اے مخالفو! تم جب بھی جماعت کو مٹانے کی کوشش کرو گے تم دیکھو گے کہ ہر مرتبہ پہلے کی نسبت تمہیں زیادہ ہزیمت اور شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔سادہ ، غریب عرب لوگ نہیں جانتے کہ ہماری اصل حقیقت کیا ہے۔جب وہ ان کے اس مسلم ٹیلیویژن کو سنیں اور دیکھیں گے اور پھر جب اس ٹیلیویژن کا ہمارے مسلم ٹیلیویژن احمدیہ سے موازنہ کریں گے تو ان کی اکثریت جو سادہ اور بچے لوگوں پر مشتمل ہے برملا اس امر کا اظہار کرے گی کہ ان کا مسلم ٹیلیویژن تو سراسر جھوٹ اور غلط پروپیگنڈہ ہے۔یہ اطلاعیں اور خبریں مجھے روزانہ بہت سے ممالک سے مل رہی ہیں۔اس دنیا میں کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے احمدیت کا صرف نام سنا ہوا ہے اس کا حقیقی چہرہ نہیں دیکھا۔یہی میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ احمدیت ہی اصل اور حقیقی اسلام ہے۔اور جب ملاں جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ احمدی انگریزوں کے ایجنٹ ہیں یا اسرائیل کے ایجنٹ ہیں تو عام لوگوں کو تو سچائی تک پہنچنے اور جانچنے کی طاقت ہی نہیں کیونکہ وہ تو قرآنی علوم سے بے بہرہ اور نابلد ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے MTA بہت ہی اچھا حربہ اور ذریعہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔اس لئے میں عبداللہ نصیف صاحب سے کہتا ہوں کہ تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو کرو۔اپنی دولت، اپنی طاقت جس حد تک تمہارے قبضہ میں ہے استعمال کر کے دیکھ لو۔ناکامی تمہارا مقدر ہے، کیونکہ تم خدا کی مخالفت کر رہے ہو۔اور ماضی کی سوسالہ مخالفت یہ ثابت کر چکی ہے کہ تم ہمیں ناکام و بر باد نہیں کر سکے۔ہزاروں لاکھوں اور کروڑوں نصیف بھی جمع ہو جائیں وہ کبھی بھی احمدیت کو مٹا نہیں سکتے کیونکہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔(لقاء مع العرب بتاريخ 19 نومبر 1994ء)