مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 335
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دو 315 شاید ماں کسی قدر کمزور تھی اس وجہ سے رفتہ رفتہ بچے جماعت سے دور ہو گئے ، یہاں تک کہ اس کی احمدی ماں کا بھی جماعت کے ساتھ رابطہ اتنا مضبوط نہ رہا۔ایک احمدی نے ان کے تعلق کو دوبارہ بحال کرنے کی نیت سے انہیں ایم ٹی اے پر نشر ہونے والی تفسیر القرآن کی کلاسز کی بعض ٹیسٹس دیں جن کو دیکھنے کے بعد ان کی کایا پلٹ گئی اور دوبارہ جماعت کے ساتھ آملے۔ان کا شوق اتنا بڑھا کہ انہوں نے ایم ٹی اے ریسیو کرنے کیلئے نیا ڈش انٹینا لگوانے کا فیصلہ کیا تا کہ رمضان کا درس قرآن براہ راست دیکھ اور سن سکیں۔اس احمدی عورت نے نئے ڈش انٹینا لگوانے کا ذکر اپنی ایک غیر احمدی سہیلی سے کیا۔یہ غیر احمدی سہیلی پہلے سے ہی ایم ٹی اے دیکھتی رہتی تھی اور خصوصاً تفسیر قرآن سے بہت متاثر تھی لہذا اس نے کہا اگر تم ڈش انٹینا لگوانے ہی لگی ہو تو رمضان سے پہلے لگوا لو اور میں تمہیں ایک چینل کے بارہ میں بتاؤں گی جس پر ایسا عمدہ درس قرآن آتا ہے جیسا میں نے اور کہیں نہیں سنا۔اور جب اس نے تفصیل بتائی تو معلوم ہوا کہ یہ چینل ایم ٹی اے ہے۔چنانچہ خدا کے فضل سے ایم ٹی اے یہ سب کچھ کر رہا ہے۔اور عرب جنہوں نے اپنے دروازے بند کر لئے تھے اب اللہ تعالیٰ ان کو کھول رہا ہے اور جب اللہ دروازے کھولتا ہے تو پھر کوئی ان کو بند نہیں کر سکتا۔خاکسار ( محمد طاہر ندیم ) عرض کرتا ہے کہ یہ واقعہ ہمارے شامی احمدی دوست عمار المسکی صاحب اور ان کی والدہ مکرمہ نوال اٹھنی کا ہے جو مکرم عبدالرؤف اٹھنی صاحب کی بیٹی اور مکرم منیر ابھنی صاحب کی بھیجی ہیں۔انکے خاوند کا نام مکرم نصوح اسکی صاحب تھا جو احدی تو نہ تھے لیکن نہایت شریف النفس انسان تھے۔ان کے دوہی بچے ہیں ایک عمار المسکی صاحب اور ایک ان کی بڑی بہن۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم شام میں عربی زبان کی تعلیم کے لئے مقیم تھے۔مرحوم اکرم الشوا صاحب ایک دن عمار المسکی صاحب کو لے کر ہمارے گھر آئے اور یوں یہ نوجوان ہمارے گھر آنے جانے لگا اور آہستہ آہستہ احمدیت کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا گیا۔اس کے بعد انہیں ہماری تحریک پر جلسہ پر لندن آنے کی بھی توفیق ملی۔ان کے اچھے رویے اور تبلیغ سے ان کے والد مکرم نصوح المسکی صاحب نے بھی بالآخر بیعت کرلی اور اپنی وفات سے قبل 2005ء میں جلسہ پر حاضر ہو کر حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کا شرف بھی حاصل کیا۔مکرم عمار المسکی صاحب کی بھی یہاں لندن میں شادی ہوگئی (17/جنوری 1996ء)