مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 304 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 304

284 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم جلسہ سالانہ کے موقعہ پر حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے دیگر عرب احباب کی طرح ان تین شامی احمدیوں کے ساتھ بھی نہایت محبت اور شفقت کا سلوک فرمایا، جس سے انکے اخلاص کا درخت شیریں شمار سے لد گیا۔چنانچہ جب محترم سامی قزق صاحب واپس دمشق تشریف لائے تو ایک عجیب پر جوش انداز میں کہنے لگے: خدا کی قسم مجھ پر حرام ہے کہ آج کے بعد مکان کے کرائے کے طور پر میں آپ سے ایک پیسہ بھی وصول کروں۔مجھے تو جماعت کا پتہ ہی اب چلا ہے۔لہذا اسکے بعد ہم انکے فلیٹ میں 2000 ء تک رہے لیکن انہوں نے ہم سے بھی کرایہ نہ لیا۔اسی سال ہم چار مبلغین کو دمشق یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کے سلسلہ میں آٹھ ہزار ڈالر کی خطیر رقم کی فوری ضرورت پڑ گئی، اور اسکے لئے ہمارے پاس صرف ایک دن تھا۔متعدد احباب سے رابطہ کرنے کے بعد جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فوراً کہا کہ چار ہزار ڈالرز کے برابر رقم تو میرے گھر میں موجود ہے باقی کل صبح بنک سے نکلوا دوں گا۔چنانچہ اگلے دن ہمیں وقت پر مطلوبہ رقم مل گئی۔بعد میں جب مرکز سے ہمارے اکاؤنٹ میں یہ رقم ٹرانسفر ہوئی تو ہم نے محترم سامی قزق صاحب کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ وہ اپنی رقم ڈالرز میں لینا پسند کریں گے یا سیرین کرنسی میں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے تو آپ سے کوئی رقم نہیں لینی۔میں نے تو وہ رقم مسجد بیت الفتوح میں چندے کے طور پر دی تھی۔آپ نے اگست 2008ء میں وفات پائی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کو غریق رحمت فرمائے ، آمین۔مکرم محمد الشوا صاحب مكرم محمد الشوا صاحب 1924 میں دمشق میں پیدا ہوئے اور 1950 میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور پھر تمام عمر وکالت کے شعبہ سے منسلک رہے جس میں بار کونسل کے چیئر مین آپ ایک منجھے ہوئے وکیل تھے۔شروع شروع میں ہمارے گھر میں فون کی سہولت موجود اور پاکستان فون یا فیکس کرنے کیلئے بازار جانا پڑتا تھا، مکرم محمد الشوا صاحب کا مکان ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر تھا۔ان کے گھر میں فون بھی تھا اور فیکس بھی۔انہوں نے خود آ کر اس کی