مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 297 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 297

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 277 سے پوچھ لیتا ہوں کہ ان کا ووٹ کس زبان کے حق میں ہے۔چنانچہ اسی وقت انہوں نے پوچھا کہ جو لوکل زبان میں لیکچر کے حق میں ہیں ہاتھ کھڑے کر دیں۔اور ہمارے علاوہ سب کے ہاتھ کھڑے تھے۔اس پر انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں تو جمہوریت ہے ہم تو اکثریت رائے کے حق میں ہیں۔اور اکثریت کا فیصلہ ہے کہ لوکل زبان میں ہی لیکچر ہو۔سیرین کلچرل سینٹر میں ہماری کوشش یہ ہوتی تھی کہ پڑھے لکھے افراد کے ساتھ ہماری علیک سلیک رہے تا کہ ان کی زبان سن کر اور ان کے ساتھ بات کر کے ہماری عربی زبان کی بھی پریکٹس ہوتی رہے۔ان میں سے ایک دوست عربی ادب میں ڈاکٹریٹ کر رہے تھے اور بہت اچھے رائٹر اور نقاد اور متعدد کتب کے مصنف تھے۔ایک دفعہ میں نے دنیا کے دکھ و آلام اور لوگوں کی بے حسی کے موضوع پر ایک چھوٹا سا مضمون لکھا جو بعد میں ایک ہفت روزہ عربی اخبار الاعتدال میں بھی شائع ہو گیا، یہ مضمون میں نے انہیں تصحیح کرنے کے لئے دیا۔مجھے یاد ہے کہ پڑھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ تم نے بڑے مؤثر انداز میں لکھا ہے اور یہ رلا دینے والی تحریر ہے۔شاید ان کے اسی حسن ظن کی وجہ سے انہوں نے ایک دن مجھے کلچرل سینٹر میں ایک سیمینار میں آنے کی دعوت دی جس میں اس دوست نے بطور میزبان اور ناقد شرکت کرنی تھی جبکہ سیمینار کا عنوان تها المهندسون القصاصون“ یعنی اس میں ایسے افسانہ نگاروں نے اپنے افسانے پیش کرنے تھے جو پیشے کے اعتبار سے انجینئر تھے۔اور اس کے بعد اس دوست نے ان پر اپنی ناقدانہ رائے دینی تھی۔سیمینار اس طرح پر شروع ہوا کہ پہلے ایک افسانہ نگار اپنا افسانہ پڑھتا تھا پھر اس پر ہال میں موجود حاضرین کو اپنی اپنی رائے دینے کا موقع دیا جاتا تھا پھر آخر پر میز بان اپنی ناقدانہ رائے کا اظہار کرتا تھا۔مجھے ان کے فلسفیانہ افسانوں کی تو کچھ خاص سمجھ نہ آئی تا ہم ایک بات سے مجھے بہت افسوس ہوا کہ ایک افسانہ نگار نے اپنے افسانہ میں کہیں کہیں فصحی کی بجائے لوکل زبان کے فقرات استعمال کئے تھے۔جب اس کے بارہ میں حاضرین کی رائے لی گئی تو میں نے بھی اپنا ہاتھ کھڑا کر دیا۔میرے اس میزبان دوست نے شاید اس خیال سے کہ ایک غیر ملکی ایک عربی