مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 273 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 273

255 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم اس طرف بلاؤں گا یا آپ سے مناظرہ کر کے حق و باطل کو واضح کروں گا۔میں کوئی معمولی شخص نہیں۔اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ مجھے علم بخشا ہے اور بعض اوقات رؤیا کے ذریعہ مجھے تفسیر قرآن کریم کی قدرت عطا کی گئی ہے۔میں نے کئی غلط تفاسیر کی تصحیح کی ہے۔مثلاً یہ کہ عذاب قبر جیسی کوئی چیز نہیں۔حضرت آدم علیہ السلام کو جب خلیفتہ اللہ بنایا گیا تو کی آپ جنت میں نہ تھے بلکہ زمین پر تھے۔اور جب آپ نے شجرہ کھایا تو آپ اپنے مرتبہ سے گر گئے۔انسان اور خدا کے درمیان براہ راست رابطہ ہو سکتا ہے۔خدا نے ہر چیز انسان کے لئے مسخر کی ہے، باہم دشمنی نہیں ہونی چاہئے وغیرہ۔اس کے علاوہ بھی اور باتیں ہیں شاید ہم ان کے بارہ میں اختلاف کریں یا اتفاق۔بہر حال میں چاہتا ہوں کہ آپ کے اصولوں پر اطلاع پاؤں تا کہ یا تو ہم اکٹھے آگے بڑھیں اور لوگوں کو رب العالمین کی طرف بلائیں یا پھر باہم مقابلہ پر نکلیں۔میری ایک ہی حجت قرآن کریم ہے۔سنت اور احادیث پر میں ایمان نہیں رکھتا سوائے ایک محدود حد تک۔تورات و انجیل پر میرا ایمان ہے۔ایک مسلمان کے لئے یہ ضروری ہیں۔اگر چہ میرا یہ بھی ایمان ہے کہ ان کتب میں بعض حصے خدا کی طرف سے نہیں بلکہ بعد میں غلطی سے دوسرے لوگوں نے اپنے انبیاء کے سیرت نامے کے طور پر داخل کر دیئے ہیں۔صراط مستقیم صرف ایک ہی راہ ہوسکتی ہے۔ناجی امت صرف ایک ہی ہوگی۔سب نہیں ہوسکتیں۔یہ میرے اصولوں میں سے بعض اصول ہیں۔آپ بھی مجھے اپنے اصولوں سے مطلع کریں۔میرا یہ خط مرزا صاحب کے سامنے پیش کئے جانے کی درخواست ہے۔اگر وہ مسکرائے تو وہ حق پر ہونگے اور میں غلطی پر۔اور اگر ان کے چہرے پر غصے کی علامات ظاہر ہوئیں تو وہ غلطی پر اور میں حق پر ہونگا۔میرے اس خط کو حقیر نہ جائیں۔میں ہاشمی ہوں۔ہوسکتا ہے کہ خدا مجھے وہ دے جو کسی اور کو نہ دیا ہو۔ہوسکتا ہے کہ میں ہی ان امتوں کا مہدی ہوں۔میں نے یہ خط ایک خاص حالت میں لکھا ہے۔اگر یہ حالت نہ ہوتی تو میں اس خط کو حقیر سمجھتا اور پھاڑ دیتا اور اپنے آپ کو مجنون خیال کرتا۔“