مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 265 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 265

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم مراکش سے محمد القاسمی صاحب لکھتے ہیں: 247 میں نے فلسفہ میں ڈگری کی ہوئی ہے۔میں اپنے آپ کو بڑا خوش قسمت تصور کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس رسالہ کے ذریعہ مجھے صراط مستقیم دکھائی۔میں آپ سے یہ بات چھپا نہیں سکتا کہ میں مجلہ میں چھپنے والی ہر چیز سے بیحد متاثر اور مسرور ہوتا ہوں۔اس مجلہ کا مطالعہ کر کے میں دوسروں کے سامنے سب کچھ بے کم و کاست پیش کر دیتا ہوں جس کی وجہ سے میں نوجوانوں کے حلقہ میں بڑا عالم سمجھا جانے لگا ہوں۔اردن سے ہمارے احمدی دوست عبد الرحمن محمد صاحب تحریر کرتے ہیں: میں نے رسالہ ”التقوی اپنی یونیورسٹی کے بعض دوستوں کو دکھایا تو انہیں بہت ہی اچھا لگا۔بعض نے مزید کا مطالبہ کیا ہے۔جماعت کے پیش کردہ افکار پڑھ کر یہ لوگ کہتے ہیں کہ واقعی یہ ایسے انقلابی افکار و خیالات ہیں جو سابقہ غلط افکار یعنی اسرائیلیات کا قلع قمع کر دیتے ہیں۔آپ لوگوں کو مبارک ہو۔درسگاہوں کے نصاب میں افریقہ کے کئی عربی مدارس اور اسلامی مراکز (جو ہماری جماعت کے نہیں ) بڑے اصرار کے ساتھ ہمارا رسالہ منگواتے ہیں تاکہ اسے اپنے نصاب میں شامل کریں اور اپنی لائبریریوں میں رکھیں۔بطور نمونہ نائیجریا کی ایک ایسی ہی درسگاہ "مرکز محمود للدعوة الاسلامیة" کے ڈائریکٹر محمود احمد تیجانی کے متعدد خطوط میں سے بعض اقتباسات پیش ہیں۔لکھتے ہیں: براہ کرم النقوی اور دیگر کتب ہمیں ارسال کریں اور کرتے رہیں تا لوگوں کو پتہ لگے کہ مخالفین کا پراپیگنڈہ کہاں تک درست ہے۔میں آپ کے رسالہ سے کانو یونیورسٹی میں طالبعلمی کے زمانہ میں متعارف ہوا تھا۔میں جب بھی لائبریری جاتا آپ کا مجلہ پڑھتا۔اس کے تحقیقی مضامین نہایت ہی اعلیٰ پائے کے ہوتے ہیں۔اسی رسالہ کے ذریعہ مجھے علم ہوا کہ احمدی حقیقی مسلمان ہیں۔ان کے عقائد میں کوئی ایسی بات نہیں جو اُنہیں بدعتی یا غیر مسلم قرار دے۔شیعہ دوسرے مسلمانوں کو کیا کچھ نہیں کہتے مگر اس کے باوجود انہیں غیر مسلم قرار دینے کی کوئی جرات نہیں کرتا، تو احمدیوں کو جو کلمہ