مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 227
مصالح العرب۔جلد دوم شاهدًا لهم ورقيبا يمنعهم من أن يقولوا مثل هذه المقالة الشنعاء- (ما دمت فيهم) أى ما بقيت فيهم، أى ما بقيت في الدنيا (فلما توفيتنى كنت أنت الرقيب عليهم أي فلما قضيت بوفاتي، والوفاة: الموت، وتوفاه الله أى أماته أى قضى به، وتوفاه ملك الموت أى قبض روحه وأماته والمعنى: أنك لما توفيتنى قد صارت الوفاة حائلا بينى وبينهم فلم يكن لي أن أنكر ضلالهم ولذلك قال: (كنت أنت الرقيب عليهم) فجاء بضمير الفعل الدال على القصر أى كنت أنت الرقيب لا أنا، إذ لم يبق بيني وبين الدنيا اتصال۔۔209 كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ الخ) کا معنی ہے میں ان پر گواہ ونگران ہونے کے ناطے انہیں اس قسم کے کلمہ کفر سے اس وقت تک روکتا رہا جب تک میں ان میں رہا، یعنی جب تک میں دنیا میں رہا۔(فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ (المائده: 118): کا مطلب ہے جب تو نے میری وفات کا فیصلہ فرما دیا۔وفات کا مطلب ہے موت تو فاہ اللہ کا مطلب ہے اسکو موت دے دی یعنی اسکا فیصلہ صادر فرما دیا، اور تو فاہ ملک الموت کا مطلب ہوتا ہے ملک الموت نے اس کی روح قبض کرلی اور اسکو موت دے دی۔اس لحاظ سے آیت کا معنی یہ ہوگا کہ جب تو نے مجھے وفات دے دی تو یہ وفات میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئی۔اس لئے میں ان کی گمراہی کا انکار نہیں کر سکتا لہذا انہوں نے کہا: (كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيب عَلَيْهِمْ) اور اس میں بھی فعل کی ایسی ضمیر استعمال کی جو حصر کے معنے دیتی ہے گویا یوں کہا کہ صرف اور صرف تو ہی نگران تھا میں نہ تھا کیونکہ وفات کے بعد میرے اور اس دنیا کے درمیان کوئی رابطہ نہ رہا۔ڈاکٹر احمد علمی کی تحقیق ڈاکٹر احمد شلمی صاحب سابق صدر شعبہ تاریخ اسلامی کلیتہ دار العلوم جامعہ قاہرہ ہیں، کئی ملکوں میں مصری سفیر رہنے کا اعزاز پایا اور مختلف زبانوں میں پچاس سے زائد کتب کے مصنف