مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 178 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 178

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 162 یہ کلمات بعینہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی ہجرت پر بھی صادق آتے ہیں جو کہ ایک بہت بڑا ابتلاء تھا۔آپ کو قید وقتل کرنے کی بڑے پیمانے پر سازش تیار ہو چکی تھی جس کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔اور دشمن اپنی دانست میں اس حربہ سے نہ صرف آپ کو گرانے کا سوچ رہا تھا بلکہ آپ کے بعد جماعت کے وجود کو بھی مٹتا ہوا خیال کر رہا تھا۔لیکن ہوا تو وہی جو خدا نے چاہا۔آپ خدا کے تصرف کے تحت چلتے گئے اور جہاں اللہ نے بٹھایا بیٹھ گئے ، جہاں کھڑا کیا کھڑے ہو گئے۔اور معجزانہ طور پر خدا تعالیٰ کی حفظ وامان میں ہجرت کر کے دیار مغرب میں پہنچ گئے۔اب اس رؤیا کے دوسرے حصہ کے پورے ہونے کی باری تھی جو کہ الہام الہی سے عبارت ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے 29 اپریل 1984ء کو ہجرت فرمائی۔اس سال تو جلسہ سالانہ برطانیہ گزشتہ طے شدہ تواریخ کے مطابق مؤرخہ 27,26 اگست کو صرف دو دن کے لئے ہوا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی جلسہ سالانہ برطانیہ صرف دو دن کیلئے اور اکثر اگست کے مہینے میں ہوتا تھا۔اگلے سال 1985ء کے جلسہ سے قبل جماعت نے اسلام آباد تلفورڈ کی وسیع اراضی خرید لی تھی چنانچہ یہاں پر ایک عالمگیر جلسہ ہوا۔اس جلسہ میں یہ عجیب بات ہوئی کہ اس کی تواریخ اگست کی بجائے 5-6 اور 7 اپریل مقرر ہوئیں، اور ان کی درمیانی تاریخ یعنی 6 اپریل کے دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس رویا اور الہام پر پورے 100 سال مکمل ہو گئے تھے۔اور یہی وہ جلسہ تھا جس میں پہلی بار 47 ممالک کے وفود شامل ہوئے۔اس موقعہ پر عرب ممالک سے بھی پہلی دفعہ تقریباً تمہیں افراد پر مشتمل ایک وفد شامل ہوا۔اس سے قبل جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اتنی بڑی تعداد میں عرب احباب شاید کسی مرکزی جلسہ میں شامل نہیں ہوئے تھے۔یوں بڑی شان کے ساتھ اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام اس انوکھے رنگ میں پورا ہوا۔اور آج خلافت خامسہ کے عہد مبارک میں تو صلحائے عرب اور ابدال الشام کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے دعا ئیں اس قدر نمایاں ہو کر سامنے آئی ہیں کہ اس کا ایک زمانہ گواہ بن گیا ہے۔