مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 98
84 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم انگلستان میں رہنے والوں میں سے پانچ سو نو جوان مل جائیں گے۔شروع میں ایک سو تو یقینی ملکی جائیں گے ) اتنے نائیجیریا کے تیار ہیں، اتنے غانا کے تیار ہیں، اتنے آئیوری کوسٹ کے تیار ہیں، اتنے لائبیریا کے تیار ہیں، اتنے سیرالیون کے تیار ہیں، اتنے گیمبیا کے تیار ہیں، اتنے سینیگال کے تیار ہیں اور بھی کئی ملکوں میں ہماری احمدی جماعتیں قائم ہیں ان میں سے بھی چاہئے احباب تیار ہوں کیونکہ اس تحریک میں ضرور شامل ہونا چاہئے۔اسی طرح نبی کے رہنے والے، انڈونیشا کے رہنے والے، آسٹریلیا کے رہنے والے ، یورپین ممالک کے رہنے والے، ہندوستان کے رہنے والے، پاکستان کے رہنے والے مصر کے رہنے والے ،سعودی عرب کے رہنے والے کوئی یہ نہ سمجھے کہ عرب ممالک میں کوئی احمدی نہیں دنیا مخالفت کرتی ہے تو کرتی رہے وہاں احمدی ہیں اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا) ابوظہبی میں رہنے والے غرض مشرق وسطی کے سارے ممالک میں رہنے والے احمدی قلم دوستی کی مجالس میں شامل ہونے کے لئے اپنے نام پیش کریں۔پھر ایک منصوبہ کے ماتحت ان کی آپس میں دوستیاں قائم کی جائیں گی۔اس قسم کے قریبی اور دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کی مثال ایک شاندار رنگ میں اور شاندار پیمانے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ملتی ہے۔اب چونکہ امت محمد یہ دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے اس صورت میں ان میں دوستانہ اور قریبی تعلقات پیدا کرنے کی ایک راہ یہ ہے کہ ان کی آپس میں قلم دوستی ہو۔اس کا اثر اس مثال سے واضح ہو جائے گا کہ فرض کریں سوئٹزرلینڈ میں ہماری ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔ہمارے سوئس دوست جو پہلے عیسائی تھے یا دہر یہ تھے وہ احمدی مسلمان بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے جماعت احمدیہ کے سپر د جو کام کیا ہے وہ اس میں سرگرمی سے حصہ لیتے ہیں پس سوئٹزرلینڈ میں گوا بھی ہماری ایک چھوٹی سی جماعت ہے لیکن اگر وہاں سے دس آدمی قلم دوستی کے لیے تیار ہوں اور ان میں سے دور بوہ میں خط و کتابت کر رہے ہوں ایک نائیجیریا سے خط وکتابت کر رہا ہو۔ایک غانا سے خط و کتابت کر رہا ہو ایک سیرالیون سے خط و کتابت کر رہا ہو، ایک انڈونیشیا سے خط وکتابت کر رہا ہو، ایک شمالی امریکہ سے خط و کتابت کر رہا ہو، ایک انگلستان سے خط وکتابت کر رہا ہو اسی طرح اگر ملک ملک میں ایک دوسرے سے قلم کا تعلق قائم ہو جائے اور دوست آپس میں خط و کتابت کرنے لگیں تو اس باہمی اخوت سے خوشگوار تعلقات کو فروغ حاصل ہوگا۔اب مثلاً