مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 76 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 76

مصالح العرب۔جلد دوم 64 بلا دعر بیہ میں انتشار جماعت کی راہ میں رکاوٹیں ساٹھ کی دہائی میں عرب ممالک میں سیاسی طور پر بڑی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ہم ذکر کر آئے ہیں کہ بلاد شام میں عموماً ساٹھ کی دہائی میں سیاسی عدم استحکام اور بعض بیرونی خطرات کے پیش نظر ان ممالک کا رجحان بعض بڑی طاقتوں کی طرف ہو گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کہیں تو اشتراکی نظام کے سیاہ سائے بلا د عربیہ پر منڈلانے لگے اور کہیں بعض اسلامی جماعتوں کی طرف سے سیاسی میدان میں غیر معتدل اور غیر اسلامی رویوں کی وجہ سے حکمرانوں نے یہ پیغام لیا کہ ملکی سیاسی استحکام میدان سیاست میں برسر پیکار دینی جماعتوں کے کچلنے سے ہی ممکن ہے۔اور جب اس سوچ کو عملی جامہ پہنایا گیا تو عام دینی جماعتیں بھی اسکی زد میں آگئیں جن کا سیاست سے دور کا بھی تعلق نہ تھا۔اور اس کا سب سے زیادہ نقصان جماعت احمدیہ کو ہوا۔جماعت احمدیہ کے مراکز کو بند کر دیا گیا، افراد جماعت کو جماعتی سرگرمیوں سے روک دیا گیا ، اور ی تبلیغ پر مکمل پابندی لگادی گئی۔بلکہ کئی مقامات پر تو افراد جماعت کو سی آئی ڈی کی طرف سے بلا بلا کر ہراساں کیا گیا تا کہ یا تو وہ احمدیت کو چھوڑ دیں یا پھر اس قدر پیچھے ہٹ جائیں کہ ان کے احمدی یا غیر احمدی ہونے میں کوئی فرق نہ رہے۔اس کے علاوہ اسلام کو اپنی سوچ اور اپنے طریقے کے مطابق چلانے کے لئے ایسے حکمرانوں نے بعض مولویوں کی ہمدردیاں لے کر یا ان کو زبردستی اپنا دست نگر بنا کر اپنے من گھڑت فتاویٰ کو اسلام کا رنگ دے کر پیش کیا۔اس کے علاوہ ایسے مولویوں نے حکومتی چھتری کے نیچے جماعت احمدیہ کے خلاف اپنے عزائم پورے کرنے کی بھی سر توڑ کوشش کی جس سے ان کو روکنے والا کوئی نہ تھا کیونکہ حکومت تو پہلے ہی دینی جماعتوں کے بارہ میں اس قسم کی پالیسی پر عمل پیرا تھی۔