مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 539
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 513 حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی یمن میں آمد حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب متعدد دفعہ یمن میں تشریف لاتے رہے آپ پاکستانی احمدی ڈاکٹر محمد احمد صاحب کے گھر کے قریبی ہوٹل میں ٹھہر تے تھے۔اور افراد جماعت سے ملتے اور اکثر وقت ان کے ساتھ گزارتے تھے۔اور جب عبد اللہ شبوطی اور سلطان شبوطی صاحب ربوہ گئے تو حضرت چوہدری صاحب نے خادموں کو ان کی خدمت سے روک کر بنفس نفیس ان کی ضیافت کی۔محمودعبد اللہ الشبوطی کی مراجعت اور تبلیغ حق محمود عبدالله الشبوطی نے جو سالہا سال سے مرکز سلسلہ میں دینی تعلیم حاصل کر رہے تھے مولوی فاضل کا امتحان پاس کرنے کے بعد 4 فروری 1960ء کو اپنی زندگی خدمت اسلام کے لئے وقف کر دی اور حضرت مصلح موعودؓ نے ان کا وقف قبول فرمالیا اور ساتھ ہی عدن میں مبلغ لگائے جانے کی منظوری بھی دے دی۔چنانچہ آپ حضور کے حکم پر 14 اگست 1960 ء کو کراچی سے روانہ ہو کر 15 اگست کو عدن پہنچ گئے۔آپ نے اگلے سال عدن سے پہلا احمدی رسالہ ” الاسلام“ جاری کیا اور علمی حلقوں میں اسلام واحمدیت کی آواز بلند کرنے کے علاوہ جماعتی تربیت و تنظیم کے فرائض بھی بجالانے لگے۔عدن پر ان دنوں برطانوی راج قائم تھا۔مذہبی آزادی تھی لہذا جماعت ترقی کی منزلیں طے کرتی رہی۔30 نومبر 1967ء کو عدن برطانوی تسلط سے آزاد ہو گیا۔اس آزادی کے ساتھ ہی مذہبی آزادی کا خون ہو گیا اور جماعت کی سرگرمیاں محدود ہوگئیں۔عدن مشن تاحال قائم ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے یمن میں احمدیت کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 11 صفحہ 243 تا 252، صدر صاحب جماعت احمدیہ یمن مکرم احمدمحمد الشبوطی صاحب کے 11 نومبر 2008ء کو ایک خط میں رقم فرمودہ تاریخی حالات) 00000