مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 535
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 511 سخت ناگوار اثر ڈالا اور آپ کو اس تبلیغی جہاد کے دوران 1949ء میں دماغی عارضہ بھی لاحق ہوتی گیا۔احمدی ڈاکٹروں نے علاج معالجہ میں دن رات ایک کر دیا جب طبیعت ذرا سنبھل گئی اور آپ سفر کے قابل ہوئے تو آپ عدن سے 22 دسمبر 1949ء کو بذریعہ بحری جہاز روانہ ہوکر 12 جنوری 1950 ء کو ربوہ میں تشریف لے آئے۔آپ کے بعد عدن کے مخلص احمد یوں خصوصا عبداللہ محمد شبوطی اور میجر ڈاکٹر محمد خان شیخ عثمان عدن نے اشاعت اسلام و احمدیت کا کام برابر جاری رکھا اور آہستہ آہستہ جماعت میں نئی سعید روحیں داخل ہونے لگیں۔مثلاً 1951 ء میں محمد سعید صوفی و ہاشم احمد ورائل حائل نے بیعت کی۔وسط 1952ء میں چار نئے احمدی ہوئے۔1960ء میں علی سالم بن سالم عدنی داخل احمد بیت ہوئے۔ایک عربی مکتوب کی اشاعت وسط 1952ء میں عبداللہ محمد الشیوطی نے ایک عالم الشیخ الفاضل عبد اللہ یوسف ہروی کے نام "مطبعة الكمال عدن سے ایک عربی مکتوب چھپوا کے شائع کیا جس میں حضرت مسیح موعود کی بعثت اور اختلافی مسائل پر نہایت مختصر مگر عمدہ پیرا یہ میں روشنی ڈالی گئی تھی۔محمود عبداللہ الشبوطی کا عزم ربوہ چونکہ عدن میں کسی نئے مبشر و مبلغ کی اجازت ملنا ایک مشکل مسئلہ بن کے رہ گیا تھا اس لئے جماعت عدن کے مشورہ سے عبد اللہ محمد الشبوطی نے اپنے ایک فرزند محمود عبد الله الشبوطی کو بتاریخ 19 مئی 1952ء مرکز میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے عدن سے روانہ کیا۔محمود عبداللہ الشبوطی 25 مئی کو ربوہ پہنچے اور جامعہ احمدیہ میں داخلہ لے لیا۔پہلا پبلک جلسه 20 نومبر 1954ء کو جماعت احمدیہ عدن کا پہلا پبلک جلسہ سیرۃ النبی منعقد ہوا۔جلسہ کا پنڈال دار التبلیغ کے سامنے تھا اور اس میں مائیکروفون کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔بل ازیں احمدیوں کے جلسے میں محدود اور چار دیواری کے اندر ہوتے تھے مگر اس سال ہے