مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 498 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 498

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 474 یہ سر محمد ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ کی دوسری ملاقات تھی۔سر ظفر اللہ خاں حکومت مصر کے مہمان کی حیثیت سے قاہرہ میں مقیم ہیں۔آپ خیر سگالی کے دورہ پر آئے ہیں۔سلامتی کونسل میں پاکستان کے متبادل نمائندے محمد اسد نے الگ تھیں منٹ تک وزیر اعظم سے ملاقات کی۔سر ظفر اللہ خاں نے عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل غازی کی عبدالرحمن عزام پاشا کے ساتھ لنچ کھایا اور بعد دو پہر آپ نے پاکستانیوں کے اجتماع میں شرکت کی۔عربی کے بہترین مصنف شیخ محمد ابراہیم نے ایک دستی لکھا ہوا قرآن مجید سرظفر اللہ خاں کو پیش کیا۔سر ظفر اللہ خاں جمعرات کو قاہرہ سے بذریعہ طیارہ کراچی روانہ ہو جائیں گے۔اخبار المصری ( قاہرہ ) نے 25 فروری 1952ء کی اشاعت میں آپ کی مصر میں تشریف آوری پر ایک مقالہ افتتاحیہ سپرد قلم کیا۔اس میں آپ کی اسلامی خدمات کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ آپ کی سرگرمیاں اور دینی صلاحیتوں سے اسلامی ممالک کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔اقوام متحدہ میں اخبار المصری کے نامہ نگار نے اس سے بھی شاندار الفاظ میں آپ کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ پچھلے تین برسوں میں اسلام اسکے فلسفے اور اس کے مقاصد کے متعلق مغربی طاقتوں کے رویہ میں جو تبدیلی ہوئی وہ اکثر و بیشتر چوہدری ( محمد ) ظفر اللہ خاں کی قابلیت اور فہم و تدبر کے رہین منت ہے۔(بحوالہ روزنامہ الفضل 27 تبلیغ 1331 ہش بمطابق 27 فروری 1952 ، صفحہ 8) تیونس اور مراکش کی تحریک آزادی کی حمایت اور دعا تیونس اور مراکش کے جانباز مسلمان ایک عرصہ سے فرانس کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔مؤتمر عالم اسلامی نے فیصلہ کیا کہ 21 نومبر 1952ء کو دنیا بھر کے مسلمان یوم تیونس و مراکش منائیں۔اس فیصلہ کے مطابق حضرت مصلح موعود کی ہدایت پر جماعت احمدیہ نے بھی ان مظلوم اسلامی ممالک کے مطالبہ آزادی کی حمایت میں جلسے کئے اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کو کامیابی بخشے۔الفضل 21-22 ماہ نبوت 1331 ہش صفحه (2) چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب وزیر خارجہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں ان ممالک کے حق میں پُر زور آواز بلند کی جس کی تفصیل آپ کی خود نوشت سوانح " تحدیث نعمت“ (طبع اول 1971ء ) صفحہ 573-569 میں ملتی ہے۔1951ء میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران