مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 473 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 473

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 451 کے وقت ہی سے ہم نہ صرف اس کو نا قابل التفات سمجھ رہے تھے بلکہ لوگوں کو اسے طاق نسیان کی میں رکھنے کا کہہ رہے تھے مگر اس کے باوجود مفتی صاحب اپنی اس غلطی کا دفاع کر رہے ہیں اور ایک غلطی کو محو کرنے کے بدلہ میں دوسری کا ارتکاب کر ہے ہیں اور ایک گمراہی کے عوض دوسری میں خود کو ملوث کر رہے ہیں۔مفتی صاحب اس بات کو جانتے ہیں کہ قادیانی جماعت میں اعتدال پسند اور صاحب و قارلوگ بھی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ظفر اللہ خاں بھی ان ہی میں سے ایک ہوں۔مفتی صاحب یہ سب کچھ بھی جانتے ہیں جیسا کہ الاخبار کو انہوں نے بیان بھی دیا ہے جو جمعرات کو شائع بھی ہو چکا ہے۔ان کا فرض تھا کہ کسی کو خدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم کرنے اور اس کے دین سے نکالنے سے پیشتر وہ فقہ اسلامی کے عام اور معمولی قوانین ہی ملاحظہ فرما لیتے جو انہیں اس معاملہ پر تحمل اور بردباری سے غور کرنے کی طرف توجہ دلا رہے تھے اور جلد بازی سے کام نہ لیتے۔فاضل مفتی صاحب کو علم ہوگا کہ ایک روز رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ایک گواہ کو فرمایا تھا کہ کیا تو یہ سورج دیکھ رہا ہے اس طرح واضح اور روشن گواہی دے ورنہ رہنے دے۔اسی طرح ان کو یہ بھی علم ہوگا کہ علماء اسلام اور آئمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ مسلمان جس کے اسلام کا ایک فیصدی بھی احتمال ہے اس پر کفر کا فتویٰ نہیں لایا جاسکتا۔پس اس شخص کے لئے جو منصب افتاء پر فائز ہو مناسب نہ تھا کہ کسی مسلمان کے خلاف کفر کا فتویٰ جاری کرنے میں جلد بازی سے کام لیتا اور مسلمان بھی اتنی عظمت شان کا مالک کہ صحافت اس کے وجود ہی کو ایک بڑی خبر تصور کرتی ہو۔اگر بالفرض ایسی کوئی بات تھی جو مفتی صاحب کو ظفر اللہ خاں کے اسلام سے خارج کرنے ہی پر مجبور کرتی تھی (جس کا ہمیں علم نہیں ) تب بھی انہیں اپنے فتویٰ یا بیان کو بہتر اور مناسب صورت دینا چاہئے تھی اور پاکستان سے وزیر زندیق کی معزولی کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیئے تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ مفتی صاحب نے اپنی تعیناتی سے متعلق قوانین کا مطالعہ ہی نہیں کیا اور یہ گمان کر لیا کہ وہ مصر اور پاکستان کے مفتی ہیں اور اس طرح اپنے ہم مشرب کے معاملات میں بھی دخل اندازی کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس کے حقوق کا احترام نہیں کیا۔مفتی پاکستان اپنے ملک اور اپنے وزیر کے متعلق یقیناً وہ کچھ جانتا ہے جس کا شیخ مخلوف