مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 472
450 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول پاکستان جو وزیر خارجہ کی پوزیشن پر ہو سے تعرض کیا جائے کہ ان کا دین کا عقیدہ کیا ہے حالانکہ وہ شخص دین اسلام کا علی الاعلان اظہار کرتا ہے۔اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے بڑی بڑی مجالس میں دفاع کرتا ہے۔اپنے موقف اور بیانات کی تائید میں قرآن کریم اور احادیث محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور دلیل پیش کرتا ہے اور علی الاعلان اس کی اقتداء کا اظہار کرتا ہے۔اس لئے دین میں انصاف کی خاطر یہ امر حکمت کے خلاف ہے کہ کوئی ان کو خارج از اسلام قرار دینے کی مصیبت میں مبتلا ہو حالانکہ وہ شخص اپنے اسلام کا کھلم کھلا اظہار کرتا ہے اور اس کو پاکیزہ تعلق یقین کرتا ہے۔اسلام اور اقوام اسلامیہ کی خدمت کے لئے قابل قدر جوش سے کام لیتا ہے۔ان کے دوست اور جاننے والے اشخاص ( جو مصر میں اکابرین اسلام ہیں ) کی آراء سے یہ واضح تأثر لیا جاتا ہے کہ وہ آپ کو ایک مسلم شخصیت ہی تصور کرتے ہیں جو اسلام کے آداب اور شرائط پر مضبوطی سے عامل ، اسلامی اخلاق وصفات سے مزین اور اسلام کی اتباع اور اسکے اصول کے التزام کی ترغیب دیتے ہیں۔مسلمان اس واقعہ سے ناواقف نہیں ہیں جو آنحضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا جبکہ کسی نے ایک آدمی کو جنگ میں قتل کر دیا حالانکہ وہ شہادتین کا اقرار کر چکا تھا کیونکہ قاتل کو یقین تھا کہ اس شخص نے قتل کے ڈر سے کلمہ شہادت پڑھا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس کے اس فعل پر ملامت کی اور اس کے عذر کو قبول نہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو نے اس کے دل کو پھاڑ کر دیکھا تھا؟ (البلاغ 26 جون 1952ء) اخبار الیوم کے نامہ نگار خصوصی مقیم کراچی کا بیان اخبار الیوم ( 26 جولائی 1952 ء) نے اپنے نامہ نگار خصوصی مقیم کراچی کے حوالہ سے لکھا:۔أصبح الأبرار كافرين ( نیک لوگ بھی اب کا فر ہو گئے ) شیخ مخلوف نے جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے اب اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش عبث اور بے معنی ہے۔اس غلطی کا نام وہ فتویٰ رکھیں یا بیان دونوں برابر ہیں۔بہر کیف وہ خود ہی اس کا شکار ہو گئے ہیں۔حکومت کے لئے اگر اسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے تو اب مفتی صاحب کو ان کے اس منصب سے علیحدہ کرنا ضروری ہو گیا ہے۔مفتی صاحب کے فتویٰ جاری ہونے کی