مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 19
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول وانعام اور اس کی مدد و نصرت وقوت سے لکھی گئی اس کتاب کا تقاضا تھا کہ حضور کا عربوں کو یہ خطاب بے مثال اور مؤثر ترین ہونا اور اعجازی رنگ لئے ہوئے ہو۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور جن الفاظ میں حضور نے عربوں کو مخاطب فرمایا وہ دل و دماغ پر اک عجیب کیفیت بر پا کر دیتے ہیں، اس کی ابتداء حضور نے ان الفاظ سے فرمائی: السلام عليكم أيها الأتقياء الأصفياء من العرب العرباء، السلام 66 19 عليكم يا أهل أرض النبوة وجيران بيت الله العظمى۔۔۔۔۔۔اس خطاب کے ایک حصہ کا ترجمہ یہاں درج کیا جاتا ہے تاہم جن احباب کو عربی زبان سے واقفیت ہے انہیں چاہئے کہ حضور کے اصل عربی کلمات پڑھ کر علمی ، ادبی اور روحانی طور پر لطف اٹھائیں۔السلام علیکم ! اے عرب کے تقوی شعار اور برگزیدہ لوگو۔السلام علیکم ! اے سرزمینِ نبوت کے باسیو اور خدا کے عظیم گھر کی ہمسائیگی میں رہنے والو۔تم اقوام اسلام میں سے بہترین قوم ہو اور خدائے بزرگ و برتر کا سب سے چنیدہ گروہ ہو۔کوئی قوم تمہاری عظمت کو نہیں پہنچ سکتی۔تم شرف و بزرگی اور مقام و مرتبہ میں سب پر سبقت لے گئے ہو۔تمہارے لئے تو یہی فخر کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا آغاز حضرت آدم سے کر کے اُسے اُس نبی پر ختم کیا جو تم میں سے تھا اور تمہاری ہی زمین اس کا وطن اور مولد ومسکن تھی۔تم کیا جانو کہ اس نبی کی کیا شان ہے۔وہ محمد مصطفیٰ ہے، برگزیدوں کا سردار ، نبیوں کا فخر ، خاتم الرسل اور دنیا کا امام۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان ہر انسان پر ثابت ہے۔اور آپ کی وحی نے تمام گزشتہ رموز و معارف و نکات عالیہ کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔اور جو معارف حقہ اور ہدایت کے راستے معدوم ہو چکے تھے ان سب کو آپ کے دین نے زندہ کر دیا۔اے اللہ تو روئے زمین پر موجود پانی کے تمام قطروں اور ذروں اور زندوں اور مُردوں اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ ظاہر یا مخفی ہے ان سب کی تعداد کے برابر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت اور سلامتی اور برکت بھیج۔اور ہماری طرف سے آپ کو اس قدر سلام پہنچا جس سے آسمان کناروں تک بھر جائے۔مبارک ہے وہ قوم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا جوا اپنی گردن پر رکھا۔اور مبارک ہے وہ دل جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک جا پہنچا اور آپ میں کھو گیا اور آپ