مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 456 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 456

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 434 ترجمہ: چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اپنی جرات اور دلیری میں مشہور ہیں۔آپ ایک مرتبہ پاکستان واپس جاتے ہوئے قاہرہ سے گزرے تو قاہرہ میں آپ کو شاہ فاروق سے ملنے کا اتفاق ہوا۔بیرونی دنیا میں انہوں نے ایک لمبا عرصہ گزارا ہے۔چوہدری صاحب کو فاروق کی ایسی رسواگن اور بیہودہ حرکات کے متعلق پڑھنے کا اکثر موقعہ ملا ہے جو فاروق ، ملک مصر اور تمام مشرقی ممالک کی بدنامی اور رسوائیوں کا موجب ہیں۔چنانچہ چوہدری صاحب نے نهایت حکمت، دانش مندی اور کمال ملاطفت کے ساتھ شاہِ مصر سے کہا کہ ”ساری دنیا کی نظریں عالم اسلام پر ہیں۔اسلامی ملکوں کے دشمن بے شمار ہیں اور ان کی تاک میں ہیں نیز ان کی لغزشوں پر نگاہ رکھتے اور شمار کرتے رہتے ہیں۔ان حالات میں مسلمان حکومتوں کے سر برا ہوں اور حکمرانوں کا فرض ہے کہ اپنی زندگی میں اسلامی طریقوں کو رواج دیں اور اسلامی قوانین کی پابندی کریں تا ان کی راستباز زندگی ان کی قوموں کے لئے نمونہ ہو اور تمام دنیا کے لئے اسلام کی تبلیغ کے پروپیگنڈا کا موجب ہو۔شاہ فاروق، چوہدری صاحب کا مقصد بھانپ کر فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور ملاقات ختم کر دی۔(1975ء میں اس جلد کے پہلے ایڈیشن میں جب یہ اقتباس شائع ہوا تو حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے سختی سے تردید فرمائی اور کئی مجالس میں بتایا کہ یہ قصہ بے بنیاد ہے میری ایسی کوئی ملاقات شاہ فاروق سے نہیں ہوئی۔شاہ فاروق نے وزیر خارجہ پاکستان کی اس جرات پر اپنا غیظ و غضب چھپایا اور موقع کی تلاش میں رہے۔شیخ مخلوف بھی موقع ڈھونڈتے رہے۔مفتی الدیار المصریہ کی بجائے وہ شاہی محلات کے مفتی کہلانے کے زیادہ مستحق تھے۔شیخ مخلوف نے بالآخر موقع پاتے ہی اس سے فائدہ اٹھایا اور ایک عجیب بیان شائع کر دیا۔جس میں کہا کہ ظفر اللہ خان قادیانی ہے اور یہ لوگ کافر ہیں۔شیخ مذکور نے اسی پر بس نہ کی بلکہ اس نے اپنے مقصد کو چھپا نہ رہنے کی خاطر یہ بھی کہہ دیا کہ حکومت پاکستان چونکہ اسلامی سلطنت ہے اس لئے اس کا فرض ہے کہ اس کا فر وزیر کو اپنی وزارت خارجہ سے نکال دے کیونکہ اسلامی سلطنت میں کا فر وزیر کا باقی رہنا مناسب نہیں۔گویا اس طرح شیخ مخلوف نے چوہدری ظفر اللہ خاں کے اس قول کا جواب دیا کہ اسلامی سلطنت میں بدکار بادشاہ کی کوئی جگہ نہیں۔