مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 438 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 438

416 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کی فلسطین میں آبادی روس، امریکہ اور برطانیہ تینوں کی پرانی سازش کا نتیجہ ہے۔گو یہ طاقتیں اپنی سیاسی اغراض کے لئے ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار نظر آتی ہیں مگر مسلم دشمنی کے مقصد میں سب مشترک ہیں۔عربوں اور مسلمانوں سے کسی کو ہمدردی نہیں ہے۔صرف اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔اور اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرنی سلمان (ماخوذ از الفضل 28 نبوت 1326 ہش بمطابق 28 نومبر 1947ء صفحہ 4 کالم 3 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 11 صفحہ 333-334 اس ضمن میں حضور نے یہ بھی فرمایا کہ: در فلسطین کا معاملہ اسلامی دنیا کے لئے ایک نہایت ہی اہم معاملہ ہے ایک ہی وقت میں پاکستان ، انڈونیشیا اور فلسطین کی مصیبتیں مسلمانوں کے لئے نہایت ہی تشویشناک صورت پیدا کر رہی ہیں۔ہمیں ان سب مشکلات پر ٹھنڈے دل سے غور کر کے کوئی ایسا راہ نکالنا ہے جو آئندہ اسلام کی تقویت کا موجب ہو اور ہمیں اس وقت اپنے ذہنوں کو دوسری چھوٹی سیاسی باتوں میں پھنسا کر مشوش نہیں کرنا چاہیے۔فلسطین کا معاملہ ایک الہی تدبیر کا نتیجہ ہے اور قرآن کریم ، احادیث اور بائبل میں ان تازہ پیدا ہونے والے واقعات کی خبریں پہلے سے موجود ہیں۔“ (ماخوذ از الفضل 11 فتح 1326 ہش بمطابق 11 دسمبر 1947ء صفحہ 3 کالم 4 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 11 صفحہ 333-334 فتنہ صیہونیت کے خلاف زبردست اسلامی تحریک 66 دنیا کی تمام بڑی بڑی اسلام دشمن طاقتیں ایک لمبے عرصے سے فلسطین میں یہودیوں کو وسیع پیمانے پر آباد کرتی رہی تھیں۔اس خوفناک سازش کا نتیجہ بالآخر 16 مئی 1948ء کو ظاہر ہو گیا جبکہ برطانیہ کی عمل داری اور انتداب کے خاتمہ پر امریکہ، برطانیہ اور روس کی پشت پناہی میں ایک نام نہاد صیہونی حکومت قائم ہو گئی اور دنیائے اسلام کے سینہ میں گویا ایک زہر آلود منجر پیوست کر دیا گیا۔اس نہایت نازک وقت میں جبکہ ملت اسلامیہ زندگی اور موت کی کشکش سے دوچار تھی حضرت امیر المؤمنین المصلح الموعودؓ نے عالم اسلام کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے ایک بار پھر پوری قوت سے جھنجھوڑا۔انہیں مغربی طاقتوں اور صیہونی حکومت کے در پردہ تباہ