مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 437
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 415 سے دباؤ میں آکر اپنی رائے بدل لی اور 30 نومبر 1947 ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو عرب اور یہودی دو علاقوں میں تقسیم کرنے کی امریکی روی قرارداد پاس کر دی۔چوہدری صاحب کے خطاب کی پذیرائی 66 مسٹر الفرد منتقل “ نے اپنی کتاب "What price Israel‘ میں جو ”ہنری و یگزی کمپنی شکا گونے شائع کی لکھا ہے کہ پاکستان کے مندوب نے تقسیم کی تجویز کے خلاف عربوں کی طرف سے زبردست جنگ لڑی۔انہوں نے کہا فلسطین کے بارہ لاکھ عربوں کو اپنی مرضی کی حکومت بنانے کا حق چارٹر میں دیا گیا ہے ادارہ اقوام متحدہ صرف ایسی مؤثر شرائط پیش کر سکتا ہے جس سے فلسطین کی آزاد مملکت میں یہودیوں کو مکمل مذہبی ،لسانی تعلیمی اور معاشرتی آزدی حاصل ہو۔اس کے لئے عربوں پر کوئی اور فیصلہ مسلط نہیں ہوسکتا (صفحہ 17) نیز لکھا ” جنرل اسمبلی میں پاکستانی نمائندے کی خطابت جاری رہی مغربی طاقتوں کو یا درکھنا چاہئے کہ کل انہیں مشرق وسطی میں ، دوستوں کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے میں ان سے درخواست کروں گا کہ وہ ان ملکوں میں اپنی عزت اور وقار تباہ نہ کریں۔جو لوگ لسانی دوستی کے زبانی دعوے کرتے ہیں ان کا حال یہ ہے کہ اپنے دروازے بے گھر یہودیوں پر بند کئے ہوئے ہیں اور انہیں اصرار ہے کہ عرب فلسطین میں یہودیوں کو نہ صرف پناہ دیں بلکہ ان کی ایک ایسی ریاست بھی بنے دیں جو عربوں پر حکومت کرے“۔لمصل ( ص 19-18 ) فلسطین کے متعلق سید نا اصلح موعودؓ کے دو معرکۃ الآراء مضامین اگر کشمیر پاکستان کے لئے رگ جان کی حیثیت رکھتا ہے تو فلسطین پورے عالم اسلام کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔مسئله فلسطین یکم دسمبر 1947ء کو ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوا جبکہ امریکہ اور روس دونوں لمصد کی متفقہ کوشش سے جنرل اسمبلی نے تقسیم فلسطین کا ظالمانہ فیصلہ کر دیا۔سید نا اصلح موعود نے تقسیم فلسطین کے پس منظر کو بے نقاب کرنے کیلئے دو معرکۃ الآراء مضامین لکھے۔جن میں سے ایک فیصلہ تقسیم سے قبل 28 نومبر کو شائع ہوا۔اور دوسرا دس روز بعد 11 دسمبر کو۔حضور نے ان مضامین میں نہایت شرح وبسط و دلائل سے ثابت کیا کہ یہودیوں کی