مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 433
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 411 میں یہودیوں کی ریاست قائم ہوگئی تو پھر وہ ہمسایہ عرب ممالک سے بھی مزید علاقوں کا مطالبہ کرینگے اور نئی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔اگر چہ یہودی اس امر کا یقین دلائیں بھی کہ وہ عربوں کے مفاد کی حفاظت کرینگے پھر بھی باہمی فساد کا جذبہ اب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ کسی مفاہمت کی کوئی امید نہیں۔یہودی اس بات پر تلے ہوئے ہیں کہ اگر ممکن ہو سکے تو طاقت کے استعمال سے یہودی ریاست قائم کریں گے۔سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے کہا کہ فلسطین کی 17 لاکھ پچاس ہزار کی کل آبادی میں چھ لاکھ اور پچاس ہزار یہودی ہیں اور وہ ملک کی اقتصادی زندگی پر چھائے ہوئے ہیں اور اگر یہودیوں کا فلسطین میں داخلہ بند بھی کر دیا گیا تو وہ سیاسی اور اقتصادی طور پر عربوں کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ بنا رہے ہیں۔ہم صورت حال سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس خطرہ کو مٹانے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔( بحوالہ الفضل 31 صلح 1325 مش بمطابق 31 جنوری 1946 ، صفحہ 6 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد نمبر 10 صفحه 568 تا570) چوہدری صاحب کی دوسری فاضلانہ تقریر چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب 9 دسمبر 1947 ء کو گورنمنٹ کالج لاہور میں ایک فاضلانہ خطاب فرمایا جس میں مسئلہ تقسیم فلسطین کی سازش پر مفصل روشنی ڈالی۔اس تقریر کا ملخص اخبار ” نوائے وقت“ نے درج ذیل الفاظ میں شائع کیا:۔لاہور۔19 دسمبر۔ادارہ اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کے قائد چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں نے آج مسئلہ فلسطین کے تمام پہلوؤں پر مفصل روشنی ڈالی۔انہوں نے ادارہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقسیم فلسطین کے فیصلہ کو سخت نا منصفانہ قرار دیا۔گورنمنٹ کالج لاہور میں تقریر کرتے ہوئے سر ظفر اللہ نے سخت افسوس ظاہر کیا کہ امریکی حکومت نے چھوٹی چھوٹی طاقتوں کے نمائندگان پر ناجائز دباؤ ڈال کر تقسیم فلسطین کے حق میں فیصلہ کرا لیا۔سر ظفر اللہ نے کہا کہ امریکہ کی انتخابی سیاسیات نے فلسطین کو ایک مہرہ بنایا۔آپ نے فرمایا کہ سرزمین فلسطین کی مجوزہ یہودی ریاست میں نہ صرف ایک مضبوط عرب اقلیت ہمیشہ کے لئے یہودیوں کی غلام بن جائے گی بلکہ ملک کی اقتصادیات پر بین الاقوامی کنٹرول قائم ہو جائے گا جو قطعاً غیر قانونی