مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 432 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 432

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول بھی وہ ملک کی سیاسی مشین پر اثر انداز ہیں۔410 یہ سوال کہ کیا فلسطین ان ملکوں میں شامل تھا جن کے بارے میں گزشتہ جنگ کے آغاز میں حکومت برطانیہ نے عربوں کو آزادی کا یقین دلایا تھا، آج تمہیں سال کے بعد بھی حل نہیں ہو سکا۔فلسطین میں گزشتہ 21 سال کی بدامنی اور ناخوشگوار حالات کے باوجود حکومت برطانیہ اس مسئلہ کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کر سکی۔پہلی عالمگیر جنگ سے موجودہ وقت تک فلسطین کی سیاسیات کا جائزہ لینے کے بعد سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے کہا کہ فلسطین کے عرب حسب ذیل چار وعدوں کی بناء پر جو کہ حکومت برطانیہ نے ان سے کئے تھے۔فلسطین میں ایک عرب ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔اول: پہلی عالمگیر جنگ کے شروع میں برطانیہ نے جن عرب ممالک سے آزادی کا وعدہ کیا تھا فلسطین بھی ان میں شامل تھا۔دوئم : حکومت برطانیہ نے اپنے پہلے وعدے کو اس اعلان سے مضبوط کیا کہ جنگ کے بعد عرب ممالک میں وہاں کے لوگوں کے مشورہ کے بغیر کوئی حکومت قائم نہیں کی جائیگی۔سوتم : بالفور اعلان کا یہ مفہوم نہیں تھا جو یہودی اخذ کرتے ہیں کہ فلسطین میں ایک یہودی ریاست قائم کی جائے گی۔چهارم: عربوں کا مطالبہ ہے کہ 1939ء کا قرطاس ابیض ایک قسم کا آخری فیصلہ تھا اور یہودی اس کی مخالفت میں حق بجانب نہیں ہیں۔سر محمد ظفر اللہ خان نے شریف مکہ اور مصر میں برطانوی ہائی کمشنر کے مابین عرب ممالک کی آزادی کے بارے میں خط و کتابت کا بتفصیل ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شریف مکہ نے مطالبہ کیا تھا کہ جنگ کے اختتام پر عرب ممالک کو آزاد کیا جائے اور کہا تھا کہ عربوں کا یہ مطالبہ ان کی زندگی کا جزو اعظم بن چکا ہے۔اور اس میں کسی قسم کا رد و بدل نہیں ہوسکتا۔حکومت برطانیہ نے ہائی کمشنر کی معرفت اس مطالبہ کو پورا کرنے کا یقین دلایا تھا۔آج عرب اسی خط و کتابت کی بناء پر فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ فلسطین بھی ان ممالک میں شامل تھا جن کے بارے میں شریف مکہ نے حکومت برطانیہ سے ضمانت مانگی تھی۔فلسطین میں یہودیوں کے قیام کے متعلق دیگر عرب ممالک کے رد عمل کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ عرب یہودیوں کے نام سے متنفر ہیں ان کا خیال ہے کہ اگر فلسطین