مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 422 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 422

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 400 بھی دیتیں تو اعتماد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ہماری آواز کے ساتھ اپنی مقررہ اور مستقل پالیسی کو ہم آہنگ کریں گی۔امیر وفد حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب نے اس عرب نمائندے کو بھی جواب دیا اور اپنے بیان میں بھی بتایا کہ مؤتمر عالم اسلامی کے قیام اور بقاء سے کم از کم جو فائدہ ہمیں پہنچ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ باہمی تعارف اور ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت حاصل ہونے کے علاوہ عالم اسلامی کے اتحاد کی ضرورت کا شعور اور احساس پیدا ہو جانا خود ایک بڑی نعمت ہے۔تقریباً ہر ایک نمائندے نے بلند آواز اور مؤثر انداز میں بار بار سنایا کہ مسلمان مسلمان نہیں رہے تم مسلمان بنو یہ آواز بھی احساس بیداری پیدا کرنے والی ہے۔اور جب قوم میں ایک دفعہ احساس پیدا ہو جائے تو اُمید کی جاتی ہے کہ دوسرا قدم بھی اُٹھایا جائے۔پس احساس بیداری سے فائدہ اٹھانا چاہیے نہ کہ مایوسی سے اس کو ضائع کر دینا چاہئے۔حضرت شاہ صاحب نے اس بیان میں مزید فرمایا کہ:۔میں نے محسوس کیا ہے کہ جمعیت علماء میں بھی قابل قدرا ایسی شخصیتیں موجود ہیں جو بھتی ہیں کہ اسلامی فرقوں کے درمیان جو اختلافات ہیں ان کی نوعیت زیادہ تر تاویلی اور اصطلاحی ہے ہمیں ان اختلافات سے بلند اور بالا رہ کر عالم اسلامی کے لئے تنظیم وحدت کا سٹیج کھڑا کرنا چاہیے۔مجھ سے ایک عالم نے کہا کہ نبوت اور ختم نبوت کی تعریف میں جو اختلاف آپ کے اور ہمارے درمیان ہے وہ دراصل اصطلاحی تعریف کا اختلاف ہے ورنہ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ اختلاف ایسا نہیں کہ اس پر آپس میں دست وگریبان ہوں۔آپ بھی مانتے ہیں کہ اسلام کی شریعت کامل ہے اور اس کے بعد کوئی شریعت نہیں اور نبوت کی تعریف میں صرف یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہونا اور نبی کے لئے ضروری نہیں کہ وہ صاحب شریعت بھی ہو اور ہمارے علماء نبی کے لئے شریعت کا لانا ضروری قرار دیتے ہیں۔تو یہ اختلاف تعریف کا ہے۔یہ ایسا اختلاف نہیں کہ آپس میں دست و گریبان ہوا جائے علماء کے طبقہ میں اس قسم کی آزاد خیالی کا پیدا ہونا خوش کن ہے۔جوں جوں ہمارا نقطۂ نظر وسعت اختیار کرتا جائے گا اور رواداری کی روح ہم میں کارفرما ہوگی ہم ایک دوسرے کے قریب ہوتے چلے جائینگے اور جو ہمارے درمیان خلیج ہے کم سے کم ہوتی چلی جائے گی۔اسلئے میں سمجھتا ہوں کہ مؤتمر عالم اسلامی کے ذریعہ سے مسلمانوں کے درمیان وحدت کی صورت پیدا ہونے کے امکانات موجود ہیں۔“ الفضل 17 مارچ 1981 ، صفحہ 6 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 13 صفحہ 294-297