مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 362 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 362

342 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کہ میں 19 فروری کو پی آئی اے کے جہاز میں ان کے پاس بیروت پہنچوں گا۔الحمد للہ کہ میرے خطوط ان کو وقت پر مل گئے اور ہوائی جہاز کے بیروت میں پہنچنے کے وقت پر ہوائی متنعقر میں میرے استقبال کے لئے مخدومی و سمی مرزا جمال احمد صاحب، برادران الشیخ عبدالرحمن السعیفان، ابو توفیق محمد الصفدی، ابوعلی الد الاتی اور محمد الد رخبانی موجود تھے۔ہمارا جہاز بوجہ خرابی اصل وقت مقررہ سے چار گھنٹے دیر سے پہنچا لیکن یہ برادران کرام (جوسب سوائے برادرم محمد الدر خبانی کے مجھ سے عمر میں بڑے ہیں ) فرط محبت کی وجہ سے اپنے گھروں کو واپس نہ گئے بلکہ وہاں ہی اس قدر لمبا عرصہ میرے انتظار میں رہے اور بڑی خوشی اور محبت سے مجھے اهلا وسهلا و مرحبا کہا اور بہت عزت افزائی کی۔تمنا بر آئی الفضل 25 جولائی 1983 ء صفحہ 3) برادرم الشیخ عبدالرحمن السعیفان نے اپنے قصبہ بر جا میں جو بیروت سے انداز انہیں میں جانب جنوب سمندر کے کنارہ اور پہاڑ کی چوٹی پر کہا بیر فلسطین کی طرح واقع ہے ایک دن پُر تکلف دعوت بھی کی۔جس میں بہت سے معززین قصبہ مدعو تھے۔برادرم ابو توفیق محمد الصفدی، برادرم مولوی رشید احمد صاحب چغتائی سابق مبلغ لبنان و شام و اردن کو ( ان کے لبنان میں اقامت کے ایام میں ) قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ میں مروں گا نہیں جب تک کہ اپنے مبلغ چوہدری محمد شریف کو دیکھ نہ لوں۔آج ان کی یہ تمنا پوری ہو رہی تھی۔اور فَالَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا ( آل عمران: 103 ) کی تصدیق ہو رہی تھی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان بڑھ رہا تھا۔الفضل 25 جولائی 1983 صفحہ 3) شام میں لبنان سے شام کو چلا گیا۔وہاں برادرم منیر الحصنی صاحب کے مکان پر ٹھہرا۔اور ان کے حسن ضیافت اور للہی محبت سے متمتع ہوا۔ان کی اہلیہ صاحبہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہو جانے کی توفیق عطا فرمائی۔سب احباب جماعت شام سے ملاقات ہوئی۔انقلاب فلسطین کے بعد میرا دمشق میں پہلی دفعہ جانا ہوا تھا اور ایسا یکدم تھا