مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 347
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول مرحومہ کا تعلیم و تربیت کے کام میں قابل ستائش نمونہ 327 یہاں کی زبان عربی تھی اور مرحومہ اگر چہ مڈل پاس تھی اور قرآن مجید با ترجمہ اور ایک حدیث اور عربی کی دو تین کتابیں پڑھی ہوئی تھی مگر وہ تعلیم یہاں نفی کے برابر تھی اس لئے یہاں آکر مرحومہ پہلے بالکل بے زبان ہوگئی۔آخر مرحومہ نے اللہ تعالیٰ سے روروکر دعائیں مانگنا شروع کیں۔آخر چند ماہ میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مرحومہ کی زبان کھول دی اور عربی بولنے لگ گئی تب مرحومہ ڈیڑھ دو سال تک مدرسہ احمد یہ میں لڑکیوں کی تین جماعتوں کو تعلیم دیتی رہی۔اور مستورات میں بھی کشتی نوح کا درس دیتی رہی۔اور گھر میں تو ہر روز درست و تدریس کا مشغلہ جاری رکھتی تھی۔اور اب تو مرحومہ اس قدر عربی سیکھ چکی تھی کہ بلا تکلف سب باتیں اور وعظ ونصیحت وتبلیغ وغیرہ بلا کسی روک کے کر لیتی تھی اور اس پر اللہ تعالیٰ کا بہت بہت شکر یہ ادا کیا کرتی تھی اور کئی نیک ارادے رکھتی تھی۔مہمان نوازی مهمان نوازی میں مرحومہ سے کبھی کوتاہی نہ ہوتی تھی۔جس قدر مہمان آئیں۔خواہ رات کو یا دن کو سب کے لئے کھانا وغیرہ خود ہی تیار کرتی تھی۔زائرین دار التبلیغ کے لئے ہر وقت چائے قہوہ وغیرہ تیار کر کے فورا بھیجتی تھی۔حتی کہ اپنی وفات سے ایک روز قبل جبکہ بیماری انتہائی زور پر تھی۔اور سانس رک رک کر آرہا تھا احمدی بہنوں سے جو خبر گیری کے لئے پاس موجود تھیں کہا کہ آج جمعہ کا دن ہے بہت سے احمدی بھائی حیفا سے جمعہ پڑھنے کے لئے آئیں گے اس لئے ابھی قہوہ تیار کر دیں اور اس طرح ان سے قہوہ تیار کروا کر ان کے لئے بھیجا۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ مہمانوں کی خاطر سب کھانا بتمام و کمال بھیج دیتیں اور اپنے لئے کچھ بھی نہ رکھتیں اور ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة كى مصداق ہو جاتی۔اخلاق کے لحاظ کی سے بھی نمونہ بہت اچھار کھتی تھی۔نہایت صالحہ اور عفیفہ تھی۔رسالہ البشریٰ کی تیاری اور ترسیل میں بھی خاص مدد کرتی رہی۔پیکنگ وغیرہ اور ٹکٹیں اور مہریں لگا کر پیکٹ تیار کر کے باہر بھجوادیتی رہی۔جزاها الله أحسن الجزاء۔یہاں کی سب احمدی اور غیر احمدی خواتین مرحومہ کے ساتھ بہت محبت رکھتی تھیں اور احمدی خواتین کی محبت تو اپنے ایمان اور اخلاص کے