مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 330
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 310 دار پر لٹکائے جاتے ہیں۔ہزاروں تک یتیموں کی تعداد پہنچ چکی ہے اور اقتصادی لحاظ سے نہ صرف اہل فلسطین ہی حیران ہیں بلکہ حکومت برطانیہ بھی تنگ آچکی ہے۔اس لئے آئے دن کی کوئی نہ کوئی کمیشن مقرر کرتی رہتی ہے تا کسی نہ کسی طرح اس مصیبت سے نجات حاصل کرے۔چنانچہ گزشتہ ایام میں ایک خاص کا نفرنس بھی لندن میں منعقد کر کے اس قضیہ کی اہمیت واضح کر چکی ہے اور جہاں اس نے اس قضیہ کو ختم کرنے کے لئے یہ کام کئے ہیں وہاں سارے فلسطین میں آمدورفت کا سلسلہ بھی بند کر رکھا ہے۔اگر کوئی شخص قلیل وقت کے لئے بھی کسی گاؤں یا شہر میں جانا چاہے تو اب ( کیونکہ اس سے قبل عربوں کی طرف سے ایسا کرنے کی اجازت نہ تھی اور اگر کوئی شخص اس کی خلاف ورزی کرتا تھا تو عرب اسے گولی کا نشانہ بنا دیتے کہ یہ قوم کا دشمن ہے۔کمانڈر انچیف افواج برطانیہ متعینہ فلسطین سے ٹیفکیٹ حاصل کرنے پر جا سکتا ہے اور پھر اگر ٹیفکیٹ حاصل بھی کرلے تو ایک مسلم کے لئے سفر کرنا مشکل ہے۔کیونکہ عربوں کی کاریں اور بسیں بوجہ احکام امتناعی بند ہیں اور یہود کی لاریوں میں سفر کرنا اس کے لئے اتنا ہی ممنوع ہے جتنا کہ حکومت کے نزدیک عربوں کی لاریوں کا سفر۔اس سے ظاہر ہے کہ یہاں اس وقت تبلیغ کے راستے میں کس قدر مشکلات ہیں۔(سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمد یہ 39-1938ء) صبر آزما حالات آپ کا دور تبلیغ بڑے صبر آزما حالات میں گزرا۔عربوں اور یہودیوں کی کشمکش پہلے سے زیادہ نازک حالت اختیار کر گئی۔اسی دوران آپ کے قتل کا منصوبہ کیا گیا جو ناکام ہو گیا۔فلسطین میں عربوں اور یہودیوں کی خانہ جنگی جب انتہاء کو پہنچ گئی تو نومبر 1947 میں اقوام متحدہ کی طرف سے تقسیم فلسطین کے فیصلے کا اعلان ہوا اور پندرہ مئی 1948 ء کو اسرائیل حکومت قائم ہوگئی اور ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم ہو گیا۔جہاں ہزاروں بے گناہ عرب مارے گئے اور لاکھوں بے خانماں ہوئے۔حیفا اور کہا بیر باقی ملک سے کٹ گیا اور متعد د احمدی جماعتیں ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئیں۔وسائل کی کمی تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ 405-404) حالات کی خرابی کی وجہ سے تبلیغی سرگرمیاں مجلہ البشری اور دیگر لٹریچر کی اشاعت تک ہی