مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 325 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 325

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول لم يأت لليهود بشريعة جديدة، ولكن جاء بما يزحزحهم عن الجمود على ظواهر ألفاظها فكان لا بد لهم من إصلاح 66 307 عيسوى يبين لهم أسرار الشريعة وروح الدين وكل ذلك في القرآن الكريم الذى حجبوا عنه بالتقليد “ اور حدیث رفع و نزول عیسی علیہ السلام در آخر زمان آحاد احادیث میں سے ہے لیکن اس کا تعلق ایک ایسے مسئلہ سے ہے جو اعتقادی مسئلہ ہے اور اعتقادی مسائل کی بناء صرف اور صرف قرآن کریم یا احادیث متواترہ کی قاطع دلیل پر ہوسکتی ہے جبکہ اس مسئلہ میں ان دونوں میں سے ایک بھی موجود نہیں ہے۔( یعنی عیسی کے رفع یا نزول کے اعتقادی مسئلہ کی بناء نہ تو کسی قاطع قرآنی آیت پر ہے نہ ہی کسی متواتر حدیث پر )۔اور یہ کہ حضرت عیسی کے نزول اور زمین میں حکومت کرنے سے مراد ان کا لوگوں پر روحانی غلبہ اور مقاصد شریعت کو اپنانا اور محض ظاہر اور چھلکے کو پکڑ کر بیٹھنے کی بجائے مغز کو سمجھنا ہے۔کیونکہ مسیح علیہ السلام یہود کے پاس کوئی نئی شریعت نہیں لائے تھے بلکہ جو تعلیم لے کر آئے تھے وہ یہود کے ظاہری الفاظ پر تکیہ کرنے کے عقیدہ کو ہلا کر رکھ دینے والی تھی۔چنانچہ ان کے لئے عیسوی اصلاح کا ماننا از بس ضروری ہو گیا تھا جو انہیں شریعت کے اسرار و دقائق پر اطلاع دینے والی اور دین کی روح کا فہم و ادراک عطا کرنے والی تھی۔اور یہ سب کچھ قرآن کریم میں موجود ہے جس سے انہوں نے اپنے پرانے طریقہ کار پر چلتے ہوئے منہ موڑ رکھا ہے۔فزمان عيسى هو الزمان الذى يأخذ الناس فيه بروح الدين والشريعة الإسلامية لإصلاح السرائر من غير تقيد بالرسوم والظواهر 66 پس عیسی کا زمانہ وہ زمانہ ہے جس میں لوگ رسوم اور ظاہر پر تکیہ کرنے کی بجائے اندرونی اصلاح کے لئے دین اور شریعت اسلامیہ کی روح کو سمجھیں گے اور اس پر عمل کریں گے۔پھر دجال کے بارہ میں لکھتے ہیں: "وأما الدجال فهو رمز الخرافات والدجل والقبائح التي تزول بتقرير الشريعة على وجهها والأخذ بأسرارها وحكمها والقرآن أعظم هاد إلى الحكم والأسرار وسنة الرسول ع ل ل ا ل ليلة مبينة لذلك “ 66 یعنی اور جہاں تک دجال کی حقیقت کا تعلق ہے تو وہ خرافات اور دجل اور قباحات کے مجموعہ کا