مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 316 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 316

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 298 نمازوں کے بعد تینتیس تینتیس دفعہ سبحان اللہ اور الحمد للہ پڑھا جائے اور چونتیس دفعہ اللہ اکبر۔یہ سو دفعہ ہوا۔اگر تم کو بعض دفعہ اپنے بڑے نماز کے بعد اٹھ کر جاتے نظر آئیں تو اس کے یہ معنی نہیں بلکہ وہ ضرور تا اٹھتے ہیں اور ذکر دل میں کرتے جاتے ہیں۔الا ماشاء اللہ۔تہجد غیر ضروری نماز نہیں۔نہایت ضروری نماز ہے۔جب میری صحت اچھی تھی اور جس عمر کے تم اب ہو اس سے کئی سال پہلے خدا تعالیٰ کے فضل سے گھنٹوں تہجد ادا کرتا تھا۔تین تین چار چار گھنٹہ تک۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت کو اکثر مد نظر رکھتا تھا کہ آپ کے پاؤں کھڑے کھڑے سوج جاتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسجد میں انتظار کرتا رہا اور ذکر الہی میں وقت گزارتا ہے وہ ایسا ہے جیسے جہاد کی تیاری کرنے والا۔2۔اللہ تعالیٰ کسی کا رشتہ دار نہیں۔وہ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ہے۔اس کا تعلق ہر ایک سے اس احساس کے مطابق ہوتا ہے۔جو اس کے بندے کو اس کے متعلق ہو۔جو اس سے سچی محبت رکھتا ہے وہ اس کے لئے اپنے نشانات دکھاتا ہے اور اپنی قدرت ظاہر کرتا ہے۔دنیا کا کوئی قلعہ، کوئی فوج انسان کو ایسا محفوظ نہیں کر سکتا جس قدر کہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور اس کی امداد کوئی سامان ہر وقت میسر نہیں آسکتا لیکن اللہ تعالیٰ کی حفاظت ہر وقت میسر آتی ہے۔پس اس کی جستجو انسان کو ہونی چاہئے۔جسے وہ مل گئی اسے سب کچھ مل گیا۔جسے وہ نہ ملی اسے کچھ بھی نہ ملا۔3۔زیادہ گفتگو دل پر زنگ لگا دیتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مجلس میں بیٹھتے ستر دفعہ استغفار پڑھتے۔اسی وجہ سے کہ مجلس میں لغو باتیں بھی ہو جاتی ہیں۔اور یہ آپ کا فعل امت کی ہدایت کے لئے تھا نہ کہ اپنی ضرورت کے لئے۔جب آپ اس قدر احتیاط اس مجلس کے متعلق کرتے تھے جو اکثر ذکر الہی پر مشتمل ہوتی تھی تو اس مجلس کا کیا حال ہوگا جس میں اکثر فضول باتیں ہوتی ہوں۔یہ امور عادت سے تعلق رکھتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں ہمارے بچے جب بیٹھتے ہیں لغو اور فضول باتیں کرتے ہیں۔ہم لوگ اکثر سلسلہ کے مسائل پر گفتگو کیا کرتے تھے اس وجہ سے بغیر پڑھے ہمیں سب کچھ آتا تھا۔انسان کی مجلس ایسی ہونی چاہئے کہ اس میں شامل ہونے والا جب وہاں سے اٹھے تو اس کا علم پہلے سے زیادہ ہو، نہ یہ کہ جو علم وہ لے کر آیا ہوا سے بھی کھو کر چلا جائے۔4۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی یا اسلام کی تبلیغ کرنا دوسروں کا ہی کام نہیں ہمارا بھی کام ہے اور دوسروں سے بڑھ کر کام ہے۔پس سفر میں حضر میں تبلیغ سے غافل نہ ہوں۔