مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 269
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 253 تھے۔نابلسی اساتذہ میں سے ایک نے کہا کہ کیا آپ حضرت مسیح کو وفات یافتہ مانتے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں قرآن مجید سے یہی ثابت ہوتا ہے۔اس پر انہوں نے سادا طریق پر پوچھا کہ پھر ان کی قبر کہاں ہے؟ میں نے جواب دیا کہ ان کی قبر کشمیر ہندوستان میں ہے۔اس نے جھٹ سوال کر دیا کہ حضرت مسیح تو فلسطین میں تھے پھر کشمیر میں اتنی دور وہ کس طرح چلے گئے؟ اس سوال کا میں ابھی جواب دینے نہ پایا تھا کہ الشیخ علی القرق نے جھٹ پٹ کہہ دیا کہ: يا أستاذ، هل كانت بلاد الكشامرة أبعد من السماء؟ اے استاد، کیا کشمیر کا ملک آسمان سے بھی دور ہے؟ اس کا جواب سنا تھا کہ تمام اساتذہ عش عش کر اٹھے اور کہنے لگے کہ بہت عمدہ جواب ہے۔تثلیث اور توحید کے حامی قیام مصر کے زمانہ میں ایک دفعہ عیسائی مبلغین سے حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کے بارہ میں مناظرہ مقرر ہو گیا۔فریق مخالف میں دو امریکن پادری اور ایک مصری پادری تھے۔اس مباحثہ میں الازہر کے بعض مشائخ اور دوسرے تعلیم یافتہ لوگ بھی سامعین میں شامل تھے۔خوب دھوم دھام سے مباحثہ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کا غلبہ ظاہر ہوا۔ایک عجیب اتفاق اس موقعہ پر یہ ہوا کہ عیسائی صاحبان کی طرف سے پہلے مصری پادری صاحب نے جواب دیئے۔امریکن انچارج پادری نے اس کی کمزوری کو محسوس کر کے دوسرے موقعہ پر خود کھڑا ہونا ضروری سمجھا اور جواب دینے کی کوشش کی۔دو مرتبہ کے بعد وہ خود بخود بیٹھ گیا اور تیسرے پادری کو کھڑا کر دیا۔اس بے چارے نے بھی ہاتھ پاؤں مارے مگر ان سب سے بات نہ بن سکی۔معاملہ یہ پیش تھا کہ خود انجیل سے ہی ایسے دو مومن گواہ پیش کر دئیے جائیں جو یہ گواہی دیں کہ ہم نے بچشم خود حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر جان دیتے ہوئے دیکھا ہے۔اس مطالبہ کو ان پادری صاحبان میں سے کوئی پورا نہ کر سکا۔اس پر ایک صاحب نے کہا کہ کیا بات ہے کہ ادھر تین پادری باری باری بولتے ہیں اور ادھر آپ اکیلے ہی ان سب کو جواب دیتے ہیں۔میں نے بطور لطیفہ کہا کہ میں توحید کا حامی ہوں اس لئے اکیلا ہوں اور وہ تثلیث کے قائل ہیں اس لئے تین ہیں۔اس پر پادری صاحبان بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔ملخص از ماہنامہ الفرقان دسمبر 1985 ء صفحہ 7-8)