مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 258
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 242 1931ء میں جب خاکسار بلاد عربیہ کے لئے بطور مبلغ روانہ ہوا تو دل میں ایک عزم یہ تانی بھی تھا کہ وہاں سے باقاعدہ عربی رسالہ جاری کیا جائے۔اس وقت تک حضرت مولانا شمس صاحب مرحوم وہاں پر ہنگامی حالات کے مطابق مختلف مفید کتب اور ٹریکٹ شائع فرماتے رہے تھے۔میں نے چارج لینے کے بعد ان سے اس عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے فرمایا کہ اخراجات کے لحاظ سے مشکل ہوگا۔جب مولانا کی روانگی کے بعد میں نے احباب جماعت سے مشورہ کیا تو وہ سب اس پر تیار تھے۔اور مالی بوجھ اٹھانے کے لئے آمادہ۔اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے پہلے سہ ماہی رسالہ البشارة الإسلامیۃ الأحمد یہ جاری کیا جو تھوڑے ہی عرصہ بعد البشری کے نام سے ماہوار مجلہ کی صورت میں شائع ہونے لگا۔الحمد للہ۔یہ البشریٰ آج تک جاری ہے۔ہم یہ رسالہ بعض یہودی اور عیسائی پریس میں طبع کراتے تھے۔کیونکہ وہاں پر اس وقت مسلمانوں کا پر لیس نہ تھا۔دل میں بار بار خیال آیا کہ ہمارا اپنا پریس ہونا چاہئے۔اخویم محترم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مرحوم سے مشورہ کے بعد قاہرہ سے ایک سیکنڈ ہینڈ پریس خریدنے کی تجویز ہوئی۔اب اس کے لئے رقم کا سوال در پیش تھا۔غالباً 1934 ء میں جبکہ میں مصر میں تھا حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا سعید احمد صاحب مرحوم پہلی مرتبہ بسلسلہ حصول تعلیم ولایت جارہے تھے۔وہ چند گھنٹوں کے لئے قاہرہ میں بھی تشریف لائے تھے۔مجھے خیال پیدا ہوا کہ اس موقعہ پر احمد یہ پریس کے لئے تحریک کا آغاز کر دینا چاہئے۔چنانچہ میں نے ان دونوں سے اس تجویز کا ذکر کیا۔انہوں نے غالباً دو دو پونڈ ز اس فنڈ میں دیئے۔میں نے اس کا ذکر کرتے ہوئے احباب جماعت میں تحریک کی۔چنانچہ ابتدائی فوری ضرورت کے مطابق چندہ اسی موقعہ پر جمع ہو گیا۔۔ایک لطیفہ اخویم استاذ منیر آفندی الحصنی پہلے سے احمدی تھے۔ان کے بڑے بھائی السید محی الدین احصنی المرحوم جو قاہرہ کے بڑے تاجر تھے میرے وقت میں سلسلہ میں داخل ہوئے تھے۔اور بہت زندہ دل تھے۔وہ بھی اس مجلس میں موجود تھے۔میں نے چندہ کی تحریک کی اور احباب نے چندے لکھوائے اور ادا کرنے شروع کئے تو انہوں نے بھی خاصی رقم چندہ کی دی مگر ظرافت طبع کے طور پر کہنے لگے۔يا أستاذ إنك أبو العطاء ولكنك دائما تحرضنا على