مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 257
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 241 مطبع کا قائم کرنا ہمارا فرض تھا۔ایک ضرورت تو ساری جماعت احمدیہ سے متعلق ہے اور دوسری ضرورت ایک معنی سے مقامی ضرورت ہے۔سو الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس فرض کو ادا کرنے کی ایک حد تک توفیق بخشی ہے۔اواخر اگست 1934ء میں میں نے احباب کو پر لیس خریدنے کے لئے چندہ جمع کرنے کی تحریک کی۔اس وقت تک جب کہ میں یہ سطور لکھ رہا ہوں 50 پونڈز سے کچھ زائد چندہ جمع ہو چکا ہے۔چندہ دہندگان کی فہرست عنقریب شائع کر دی جائے گی۔ایک سیکنڈ ہینڈ مشین قاہرہ سے خرید لی گئی ہے۔حروف بالکل نئے خریدے گئے ہیں۔سامان اس جگہ پہنچ چکا ہے۔پریس قائم کرنے کے لئے زمین جماعت احمد یہ کہا بیر نے پیش کی ہے۔جس پر فی الحال گزارہ کے موافق مکان بنانا شروع کر دیا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ ان سطور کے شائع ہونے تک پریس کام کرنے کے قابل ہو جائے گا۔حکومت فلسطین کی طرف سے پریس قائم کرنے کی اجازت مل چکی ہے۔پریس کی مشین ، حروف اور دیگر اشیاء پر اس وقت تک 70 پونڈ ز خرچ ہو چکے ہیں۔مکان کے بنانے اور پریس کے درست کرنے کے اخراجات کا اندازہ 25، 30 پونڈز ہے ، گویا کل لاگت 100 پونڈ ز ہو گی۔اس جگہ کے احباب کے وعدوں کو ملا کر کل رقم چندہ 70 پونڈ ز ہو جائے گی۔انشاء اللہ۔باقی رقم کے لئے اگر بعض دوسرے احباب اس کارخیر میں شرکت فرما ئیں تو ان کے لئے دائگی اجر کا موجب ہوگا۔میں اس سے زیادہ اور کیا کہہ سکتا ہوں۔اسی ضمن میں یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خاکسار نے فلسطین گورنمنٹ سے با قاعدہ رسالہ جاری کرنے کے لئے اجازت حاصل کر لی ہے۔اور جماعتہائے بلاد عربیہ کے مشورہ کے مطابق اب یہ رسالہ ہر قمری مہینہ کی پہلی تاریخ کو ماہوار شائع ہوا کرے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اور پہلا نمبر اس پروگرام کے مطابق یکم شوال 1353ھ یعنی اوائل جنوری 1935ء میں شائع ہو گا۔ان شاء اللہ۔رسالہ کا سالانہ چندہ فلسطین میں چار شلنگ اور دیگر ممالک کے لئے پانچ شلنگ ہوگا۔ہندوستان میں صرف تین روپیہ سالانہ چندہ ہو گا۔لمبے نام البشارة الإسلامية الأحمدية کی بجائے اب آئندہ سے رسالہ کا نام البشریٰ ہوگا۔الفضل (13 نومبر 1934 صفحه 8 رسالہ البشری کے بارہ میں حضرت مولانا حیاۃ ابی العطاء کے تحت الفرقان میں بھی درج فرمایا۔آپ فرماتے ہیں: