مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 237 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 237

221 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول متعدد جلدیں رکھی جاتیں۔اور یہ مقام دار الحدیث ہوتا جہاں ہر وقت حدیث کا درس جاری رہتا۔اس طرح پر جن بدعات یا مشرکانہ حرکات کا آپ کو خطرہ تھا وہ بھی باقی نہ رہتا۔ہر وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا جاتا اور لوگ حدیث سنا کرتے یا سیرت کی کتابیں پڑھتے۔میری اس تجویز پر ان کے چہرہ پر مسرت کی ایک لہر آئی اور انہوں نے اسے بہت پسند کیا۔اور کہا کہ میں حضرت امام سے ذکر کروں گا۔( یہ لوگ ابن سعود کا جب ذکر کرتے ہیں تو حضرت امام سے کرتے ہیں۔اس پر یہ انٹرویو ختم ہو گیا۔سلطان ابن سعود کو احمدیت کی تبلیغ جلالۃ الملک سلطان ابن سعود سے مجھے تین مرتبہ ملنے کا موقع ملا۔دو مرتبہ تو میرے ساتھ حضرت الحاج غیر صاحب مبلغ اسلام ( لندن و افریقہ تھے ) اور تیسری مرتبہ مجھے تنہا ان سے ملنے کا اتفاق ہوا اور یہ ملاقات بہت اہم تھی۔مکہ معظمہ میں سلطان ابن سعود کے داخلہ کا پہلا سال تھا اور اہل حدیث کے بہت سے لوگ وہاں گئے ہوئے تھے۔ان میں مولوی محمد اسماعیل سورتی صاحب تھے۔میں ان سے قیام بمبئی کے ایام میں واقف اور بے تکلف تھا اور وہ مذہبا اہل حدیث تھے۔۔۔مولوی اسماعیل صاحب کو مولوی اسماعیل غزنوی (جو سلطان کے خاص مقربین سے ہیں۔۔۔سے نہیں معلوم کیوں کچھ رنجش تھی وہ ان کے اقتدار اور قرب کو دیکھ نہ سکتے تھے۔غزنوی صاحب کے ننھیال سے خاکسار عرفانی کو ارادت وعقیدت تھی اس لئے وہ مجھ سے بھی محبت رکھتے تھے۔سورتی صاحب کو یہ اچھا موقع ملا کہ میرے متعلق انہوں نے غزنوی صاحب کو الزام کے لئے ایک حیلہ پیدا کیا اور شکایت کی کہ غزنوی صاحب ان کو سلطان کے پاس لے گئے اور ان کی وجہ سے یہاں ایک فتنہ پیدا ہو جائے گا اور یہ ہو گا اور وہ ہوگا۔سلطان میرے عقائد سے واقف تھے اور انہوں نے شیخ الاسلام عبد اللہ بن بالہید۔استصواب کیا تھا کہ کیا میں ان سے ملوں ؟ یہ لوگ تو مبلغ ہوتے ہیں۔شیخ الاسلام نے (خدا ان پر رحم کرے) نہایت صحیح مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے سلطان کو ضرور ملاقات کرنی چاہئے ، اور جو کچھ وہ کہیں سننا چاہئے۔چنانچہ ہم کو موقع ملا اور ہم نے واضح الفاظ میں اپنے عقائد کو پیش کر دیا تھا۔